سورج گرہن ایک دلچسپ فلکیاتی واقعہ ہے جس میں چاند سورج کے سامنے آ کر اسے جزوی یا مکمل طور پر ڈھانپ دیتا ہے، اس کا ایک خاص روپ، جسے “رِنگ آف فائر” کہا جاتا ہے، اس وقت پیدا ہوتا ہے جب چاند زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہوتا ہے۔
چونکہ چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ نہیں پاتا، اس لیے سورج کا بیرونی حصہ ایک روشن حلقے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ یہ مناظر فلکیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ہمیشہ پرکشش رہتے ہیں۔
رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا گرہن کا آغاز پاکستان وقت کے مطابق 12بج کر ایک منٹ پر ہوگا لیکن پاکستان میں اس گرہن کو براہِ راست دیکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ مکمل رِنگ آف فائر صرف انٹارکٹیکا میں نظر آئے گا۔
جنوبی امریکا اور جنوبی افریقا کے بعض علاقوں میں یہ جزوی طور پر دکھائی دے گا۔ دنیا کے دیگر حصوں میں لوگ اس منظر سے محروم رہیں گے، لیکن آن لائن ذرائع کے ذریعے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر “ٹائم اینڈ ڈیٹ” ویب سروس لائیو اسٹریم فراہم کرتی ہے جس سے دنیا بھر کے لوگ اس حیرت انگیز فلکیاتی منظر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
رِنگ آف فائر سورج گرہن نہ صرف ایک جمالیاتی تجربہ ہے بلکہ فلکیات کے ماہرین کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس دوران چاند اور سورج کی حرکت، زمین کے گرد مدار اور فاصلے کی بنیاد پر ان کے سائز اور روشنی میں تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
جزوی گرہن میں سورج کا صرف ایک حصہ چھپتا ہے، جبکہ اینیولر گرہن میں ایک مکمل حلقہ نظر آتا ہے جو سورج کی روشنی اور چاند کی پوزیشن کے خاص امتزاج کی وجہ سے بنتا ہے۔یہ گرہن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سیارے اور ان کی حرکتیں کس قدر پیچیدہ اور ہم آہنگ ہیں۔