حکومت نے شادی شدہ خواتین سے متعلق ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے انہیں پاسپورٹ پر اپنے والد کا نام برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے، اس اقدام کو خواتین کی قانونی شناخت میں خودمختاری اور سہولت کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ فیصلہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بعد کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پاسپورٹ نظام میں ضروری تبدیلیاں کی گئیں، جس کے بعد شادی شدہ خواتین کو یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات میں والد کا نام برقرار رکھ سکیں۔
محکمہ پاسپورٹ حکام کے مطابق پہلے عمومی طور پر شادی کے بعد خواتین کے پاسپورٹ پر شوہر کا نام درج کیا جاتا تھا، تاہم اب نئی اصلاحات کے تحت خواتین اپنی مرضی سے والد کا نام برقرار رکھ سکیں گی۔
اس تبدیلی کے لیے پاسپورٹ کے نظام میں تکنیکی سطح پر ترمیم کی گئی ہے اور متعلقہ سافٹ ویئر کو باقاعدہ طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون کی رہنمائی حاصل کی گئی، تاکہ قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کیا جا سکے۔
نئی پالیسی کے تحت خواتین کو اپنی شناخت کے حوالے سے زیادہ اختیار اور سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے نہ صرف قانونی پیچیدگیاں کم ہوں گی بلکہ بین الاقوامی سفر کے دوران بھی آسانی میسر آئے گی،یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے تناظر میں ایک مثبت قدم ہے، جس سے ان کی ذاتی شناخت کو تسلیم کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔