خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی مؤثر پالیسی سازی اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کا ہیلتھ ٹیک سیکٹر مستحکم ترقی کے ایک نئے اور جدید مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ہیلتھ ٹیک پاکستان میں سرمایہ کاری اور بڑھتے ہوئے معاہدوں کی تعداد کے لحاظ سے ملک کا دوسرا سب سے زیادہ متحرک شعبہ بن کر ابھرا ہے، جو ملکی معیشت اور عوامی صحت کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہیلتھ ٹیک کے شعبے میں سالانہ 4.2 فیصد کی متاثر کن شرح نمو دیکھی گئی ہے، جبکہ مجموعی سرمایہ کاری 59.8 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو کہ بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کا مظہر ہے۔
اس ترقی میں ماہر ہیلتھ کیئر افرادی قوت کا بھی اہم کردار ہے جو ٹیکنالوجی کے مؤثراستعمال کے ذریعے دور دراز علاقوں تک معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔
ایم ڈی سانتے فارما توقیر الحق نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2019 سے 2024 کے دوران ہیلتھ سیکٹر اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں جو نمایاں بہتری آئی ہے، اس میں ایس آئی ایف سی کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
توقیر الحق نے مزید انکشاف کیا کہ ایس آئی ایف سی کی سرپرستی کے باعث گزشتہ سال فارماسیوٹیکل برآمدات میں 34 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایس آئی ایف سی کی مسلسل معاونت اور باہمی اشتراک سے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں جدت کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ آج 9 اپریل 2026 کو جاری ہونے والی اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنی طبی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
پاکستان میں روایتی طبی نظام طویل عرصے سے دباؤ کا شکار رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ہیلتھ اور ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپس نے اس خلا کو پر کیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے قیام کا مقصد معیشت کے کلیدی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا تھا۔ ہیلتھ ٹیک میں 59.8 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب ٹیلی میڈیسن، ای، فارمیسی اور ڈیجیٹل ڈائگنوسٹکس کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جس سے ناصرف علاج سستا ہوگا بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔