ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
عراقی نے واضح کیا کہ اگر دشمن ممالک کے تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ایران آبنائے ہرمز میں ان کے گزرنے کو نہیں دے گا، تاہم دشمن حملے میں عام شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔.
ان کا کہنا تھاہمارے ردعمل میں شہری علاقوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلکہ صرف امریکی کمپنیوں اور ان کے مفادات کو ہدف بنایا جائے گایہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اسرائیلی فوج ایرانی کلسٹر بموں کے حملوں سے پریشان ہے۔
ایرانی حکام کی طرف سے یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا جواب سخت اور ہدف کے مطابق دیا جائے گااس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے عوام کو تسلی دی تھی کہ جنگ کے باوجود ملک کی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران گرنے والے حملوں کے باوجود عوامی خدمات میں کوئی بڑا تعطل نہیں آیا اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو پہلے سے بھی بہتر انداز میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور عوام کے تعاون سے مشکل حالات پر قابو پایا جائے گا۔