پاکستان کرکٹ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟بھارتی ٹیم بھی معترف

پاکستان کرکٹ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت کیا ہے؟بھارتی ٹیم بھی معترف

بھارتی آف اسپنر روی چندرن ایشون نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی کارکردگی سے متعلق تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین شرٹس کے پاس اس میگا ایونٹ کو جیتنے کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔

ایشون کے اس بیان نے کرکٹ حلقوں میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ رائے ایک بھارتی کرکٹرکی جانب سے سامنے آئی ہے۔
اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستان اسکواڈ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے روی چندرن ایشون نے واضح کیا کہ وہ کسی جذباتی یا سیاسی زاویے سے نہیں بلکہ خالصتاً کرکٹ کے نقطۂ نظر سے بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ان کی بات کچھ لوگوں کو پسند نہ آئے، لیکن موجودہ حالات اور ٹیم کمبی نیشن کو دیکھتے ہوئے پاکستان اس ورلڈکپ میں ایک مضبوط دعوے دار کے طور پر سامنے آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی اوپننگ جوڑی اور تیز بولنگ اٹیک ہے، انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں بابر اعظم اوپننگ کے بجائے مڈل آرڈر میں نظر آ سکتے ہیں، جبکہ صاحبزادہ فرحان اور صائم ایوب اننگز کا آغاز کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں :ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ،پاکستان بھارت سیمی فائنل یا فائنل میں مدمقابل آئے تو کیا ہوگا؟

ایشون نے خاص طور پر صائم ایوب کی پاور پلے میں جارحانہ بیٹنگ کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ابتدائی اوورز میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بولنگ کے شعبے میں بات کرتے ہوئے ایشون نے شاہین شاہ آفریدی کو پاکستان کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ پاور پلے میں شاہین کا اکانومی ریٹ 6.5 کے قریب ہے، جو کسی بھی ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بھارتی کرکٹر نے ابرار احمد اور محمد نواز کی بھی تعریف کی ، ایشون کا کہنا تھا کہ نواز کنٹرولڈ بولنگ کرتے ہیں جبکہ ابرار احمد اپنی منفرد گیندوں کی وجہ سے بیٹرز کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابر اعظم کا مڈل آرڈر میں کھیلنا ایک رسک ہو سکتا ہے، جبکہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کی ڈیتھ اوورز میں بولنگ حالیہ عرصے میں اتنی مؤثر نہیں رہی۔ شاداب خان کی بیٹنگ اور بولنگ فارم پر بھی انہوں نے تشویش کا اظہار کیا۔

ایشون کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم مجموعی طور پر متوازن اور خطرناک ہے۔ انہوں نے سلمان علی آغا جیسے کھلاڑی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر خبروں میں نہیں رہتے، لیکن ٹیم کے لیے میچ وننگ کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *