پاکستان نے بھارت کیخلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں 15 فروری کو شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کردیا ہے لیکن اگر پاکستان ایونٹ کے اگلے مرحلے میں پہنچ گیا سیمی فائنل یا فائنل میں بھارت کیساتھ میچ پڑ گیا تو کیا پاکستان تب بھی میچ کا بائیکاٹ کریگا؟اس حوالے سے ترجمان پی سی بی نے وضاحت کردی ہے۔
بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر میر سے جب پوچھا گیا کہ کیا ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل کے دوران بھی پاکستانی ٹیم انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی تو ان کا کہنا تھا اس کا فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا اور یہ فیصلہ پی سی بی نہیں، حکومت کرے گی۔
واضح رہے گروپ اے میں بھارت اور پاکستان کے علاوہ امریکہ، نمیبیا اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں شامل ہیں ،پاکستان کی دستبرداری کا نتیجہ اس میچ میں بھارت کی فتح اور دو یقینی پوائنٹس کی شکل میں نکلے گا جبکہ پاکستان کو سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنانے کے لیے اپنے بقیہ میچ اچھے رن ریٹ کے ساتھ جیتنے ہونگے۔
اگر بات رنز بنانے کی اوسط یا رن ریٹ کی ہو تو آئی سی سی کی ’پلیئنگ کنڈیشنز‘ کی شق 16.10.7 کے مطابق اگر کسی میچ میں ایک ٹیم کھیلنے سے انکار کرے تو دستبردار ہونے والی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ متاثر ہو گا جبکہ دوسری ٹیم کے رن ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا یعنی دستبرداری پاکستان کے اس ٹورنامنٹ میں رن ریٹ کو بھی متاثر کرے گی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کو دنیا کا سب سے بڑا اور منافع بخش کھیلوں کا مقابلہ قرار دیا جاتا ہے، جو نہ صرف شائقین بلکہ عالمی کرکٹ معیشت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ برقرار رہا تو اس کے اثرات براہِ راست عالمی کرکٹ کی مالی ساخت پر مرتب ہوں گے، جن میں سب سے بڑا نقصان بھارتی براڈکاسٹرز کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک بھارت میچ نہ ہونے کے باعث بھارتی براڈکاسٹنگ کمپنیوں کو تقریباً 500 ملین ڈالرز، یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 141 ارب روپے تک کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک بھارت مقابلہ ٹیلی ویژن ریٹنگز، ڈیجیٹل اسٹریمنگ، اشتہارات اور اسپانسرشپ کے لحاظ سے سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کرکٹ ایونٹ سمجھا جاتا ہے۔