امریکی فوج کے 41 ویں چیف آف اسٹاف جنرل اینڈی جارج کی اچانک ریٹائرمنٹ نے فوجی قیادت میں ہلچل مچا دی ہے، جبکہ اس فیصلے کے پیچھے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ پالیسی اختلافات کو بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنرل اینڈی جارج کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ امریکی فوج میں وسیع پیمانے پر قیادت کی تبدیلی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع فوج میں ایسے افسران کو آگے لانا چاہتے ہیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفاعی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہوں۔
رپورٹس کے مطابق جنرل جارج اور وزیر دفاع کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اختلافات سامنے آئے، جن میں فوجی قیادت میں تیزی سے تبدیلیاں، سینئر افسران کی برطرفی اور تقرریوں کا طریقہ کار، اور فوج میں تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) پروگرامز کا مستقبل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے یورپین ممالک کے ساتھ بھی محاذ کھول لیا،بڑی دھمکی بھی دے ڈالی
مزید یہ کہ چار سینئر افسران، جن میں خواتین اور سیاہ فام افسران بھی شامل تھے، کی ترقی روکنے کے فیصلے پر بھی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ جنرل جارج ان پالیسی فیصلوں سے مکمل طور پر متفق نہیں تھے، جس کے باعث قیادت کے درمیان تناؤ بڑھتا گیا۔
جنرل اینڈی جارج کی سبکدوشی کی بنیادی وجوہات میں وزیر دفاع کی نئی پالیسیوں سے عدم ہم آہنگی، فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا منصوبہ، اور اعلیٰ افسران کی پروموشن و برطرفیوں پر اختلافات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنرل کرسٹوفر لانیو کو عبوری طور پر چیف آف اسٹاف مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ فوجی قیادت کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

