ایرانی فوج کے انٹیلیجنس سربراہ مجید خادمی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید

ایرانی فوج کے انٹیلیجنس سربراہ مجید خادمی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں ، اس کی خود پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی میڈیا نے تصدیق کردی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے مطابق میجر جنرل مجید خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں ملک کی سکیورٹی اسٹرکچر کی ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ مجید خادمی کی خدمات ایران کی داخلی سلامتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کے حوالے سے نہایت اہم تھیں، اور ان کی موت ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سربراہ نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو نفرت انگیز قرار دیدیا

ادھر اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے دارالحکومت تہران میں ایک کارروائی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی کو شہید کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران نے میجر جنرل مجید خادمی کو جون 2025 میں پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس ونگ کا سربراہ مقرر کیا تھا، جب ان کے پیشرو جنرل محمد کاظمی ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے  اور مختلف محاذوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا اسٹریٹجک منظر نامہ مستقل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور یہ اہم آبی گزرگاہ خصوصاً امریکا اور اسرائیل کے لیے اب کبھی اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آئے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *