صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانا سرخ لکیر پار کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں۔
صدر مملکت نے بیان میں کہا کہ افغانستان میں قائم حکومت دہشت کے ذریعے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور اس عمل کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ افغان حکام نے ماضی میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال اس وعدے کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ افغان حکومت ایک طرف دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی روابط کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنا کر کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے اور پاکستان کی پالیسی ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اگر پاکستان کے شہریوں اور سرحدی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔
صدر مملکت نے کوئٹہ، کوہاٹ اور راولپنڈی میں مبینہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر شہریوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں خصوصاً بچوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت عمل ہے۔ حکومت زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی روک تھام میں مدد فراہم کرے جو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔