رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آخری عشرے کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر کے مسلمان شب قدر کی تلاش اور عبادات میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق شب قدر وہ عظیم رات ہے جس میں عبادت کا ثواب ہزار مہینوں سے بھی زیادہ قرار دیا گیا ہے اور اسی رات قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تھا۔ علما کے مطابق یہ رات امت محمدیہ ﷺ کے لیے اﷲ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام اور رحمت ہے۔
مشہور محدث اور فقیہ امام مالکؒ سے منقول روایت کے مطابق انہوں نے ایک معتبر اور نیک عالم سے سنا کہ رسول اﷲ ﷺ کو سابقہ امتوں کے لوگوں کی عمریں بتائی گئیں۔ جب آپ ﷺ نے اپنی امت کی اوسط عمر کو نسبتاً کم دیکھا تو یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ کم عمر ہونے کے باعث شاید اتنی عبادت نہ کر سکیں جتنی سابقہ امتوں نے کی۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے امت محمدیہ ﷺ کو شب قدر عطا فرمائی جو 1000 مہینوں سے بہتر قرار دی گئی۔ یہ روایت موطا امام مالک میں بیان ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خانہ کعبہ میں روح پرور مناظر، ’شب قدر‘ کی تلاش میں 25 لاکھ سے زیادہ نمازی مسجدالحرام، مسجد نبویﷺ پہنچ گئے
احادیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو مسلسل 1000 مہینے تک اﷲ کے راستے میں جہاد کرتا رہا۔ جب صحابہ کرامؓ نے یہ سنا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ ہماری عمریں تو اس کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس پر اﷲ تعالیٰ نے سورۂ قدر نازل فرمائی اور امت کو شب قدر جیسی بابرکت رات عطا فرمائی جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی افضل قرار دی گئی۔
ایک اور روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت حزقیل علیہ السلام اور حضرت یوشع علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ یہ بزرگ ہستیاں 80 80 سال تک مسلسل اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں اور پلک جھپکنے کے برابر بھی نافرمانی نہ کی۔ یہ سن کر صحابہ کرامؓ کو حیرت اور رشک ہوا۔ اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے شب قدر کا عظیم تحفہ عطا فرمایا۔
اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور سورۂ قدر سنائی جس میں شب قدر کی عظمت بیان کی گئی۔ اس سورہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو شب قدر میں نازل کیا گیا اور یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات فرشتے اور روح القدس یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کے حکم سے زمین پر اترتے ہیں اور یہ رات طلوع فجر تک سراپا سلامتی اور برکت کا پیغام ہوتی ہے۔
علما کے مطابق سورۂ قدر میں شب قدر کی 4 بڑی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی خصوصیت قرآن مجید کا نزول ہے، دوسری خصوصیت فرشتوں کا زمین پر نزول، تیسری ہزار مہینوں سے زیادہ فضیلت، جبکہ چوتھی یہ کہ صبح صادق تک خیر، امن اور سلامتی کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور جو شخص اس رات کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اﷲ کا ذکر اور عبادت کر رہا ہو اس کے لیے رحمت اور سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔
اسی عظیم رات کی تلاش کے لیے نبی کریم ﷺ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی سنت بھی قائم فرمائی۔ احادیث کے مطابق آپ ﷺ نے پہلے رمضان کے ابتدائی 10 دن اعتکاف کیا، پھر درمیانی 10 دن اعتکاف فرمایا، بعد ازاں آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ شب قدر آخری عشرے میں ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ آخری 10 دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداﷲ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ بعض صحابہؓ کو خواب میں شب قدر رمضان کی آخری 7 راتوں میں دکھائی گئی، جس پر رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شب قدر کی تلاش کرنا چاہے وہ آخری 7 راتوں میں اسے تلاش کرے۔
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دعا پڑھو:
یا اﷲ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، مجھے بھی معاف فرما دے۔
حضرت عائشہؓ ایک اور روایت میں بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کو سجدے میں یہ دعا کرتے سنا:
یا اﷲ! میں تیری سزا سے تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں، تیرے غضب سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں اور تیری سختیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے اپنی تعریف خود بیان کی ہے۔

