امریکی معتبر جریدے ’فارن پالیسی‘ نے ایک بار پھر افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے درمیان گہرے نظریاتی و عسکری گٹھ جوڑ کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جو ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔
‘فارن پالیسی’ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فتنہ الخوارج درحقیقت القاعدہ کی ایک عسکری اتحادی تنظیم ہے، جس کی فکری بنیادیں افغان طالبان سے گہری ہم آہنگی رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کی طورخم سیکٹر پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف موثر کارروائی،طالبان پوسٹ تباہ
اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں فتنہ الخوارج کے تقریباً 6000 جنگجو موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 30 سے 35 ہزار جنگجوؤں پر مشتمل دہشت گرد گروہ پاک افغان سرحد پر فعال ہیں۔ ان گروہوں کا بنیادی ہدف پاکستانی ریاست اور اس کے سیکیورٹی ادارے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کابل میں فتنہ الخوارج کے رہنما نور ولی محسود کو افغان طالبان کی جانب سے مسلسل لاجسٹک سہولیات، آپریشنل جگہ اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
ایک سابق افغان سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان جلد ہی مختلف جہادی گروہوں کے درمیان جنگ کا میدان بن سکتا ہے، جہاں ہر گروہ مخصوص علاقوں پر اپنا دعویٰ کرے گا۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال ‘شام’ جیسی ہو سکتی ہے، جہاں طالبان رجیم کا کردار بشار الاسد کی حکومت جیسا ہوگا جو صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہ جائے گی۔
واضح رہے کہ ‘فارن پالیسی’ کی یہ رپورٹ اس حقیقت پر مہر ثبت کرتی ہے کہ افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کا غلبہ اور انہیں حاصل سرکاری پشت پناہی خطے کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔
یاد رہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا یہ گٹھ جوڑ ناصرف پاکستان کے لیے مستقل خطرہ ہے بلکہ خود افغانستان کو بھی ایک نئی اور خونریز خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اپریل 2026 کے ان حالات میں عالمی برادری کو اس بڑھتے ہوئے خطرے کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ خطے کو ایک بڑے انسانی اور سیکیورٹی بحران سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ بے نقاب، گرفتار خودکش بمبار کے ہوشرباانکشافات

