چین کا امریکا کو کرارا جواب، آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق بڑا بیان جاری

چین کا امریکا کو کرارا جواب، آبنائے ہرمز کی بندش سے متعلق بڑا بیان جاری

چین نے مشرقِ وسطٰی میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی حالیہ بندش کا ملبہ براہِ راست امریکا اور اسرائیل پر ڈالتے ہوئے اسے عالمی تجارتی راستوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی آمد و رفت میں خلل کی بنیادی وجہ ایران پر کیے جانے والے امریکی اور اسرائیلی غیر قانونی فوجی حملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فوج قومی استحکام کا ستون اور پاک چین دوستی و تعاون کی مضبوط محافظ ہے، چینی وزارت خارجہ

ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف کی جانے والی یہ کارروائیاں ناصرف غیر قانونی ہیں بلکہ یہ عالمی شپنگ لین کے تحفظ کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

بیجنگ کا مؤقف ہے کہ جب تک ان حملوں اور جاری جنگ کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک عالمی سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ممکن نہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اسے مزید بڑے معاشی جھٹکوں سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور اہم ترین تجارتی راستوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

چین کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطٰی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کئی امریکی ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اس کے جواب میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مراکز پر حملے کیے ہیں۔

 ان حملوں کے ردِعمل میں ایران نے تزویراتی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دشمن ممالک کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔

چین، جو کہ ایرانی تیل کا بڑا خریدار اور خطے میں معاشی مفادات رکھتا ہے، مسلسل اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے اور اسے امریکا کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:تھوڑا وقت اور دیں، ہم آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھلوا کر تیل لے سکتے ہیں، ٹرمپ کا نیا دعویٰ

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے جو خلیج فارس کو عالمی سمندروں سے ملاتا ہے۔ یہ راستہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی اس علاقے میں کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی برسوں سے کشیدہ ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ خطے میں امریکی اور اسرائیلی سرگرمیوں پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس کے بعد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔

اگر آبنائے ہرمز میں طویل مدت تک رکاوٹ برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی تجارت، شپنگ انڈسٹری اور سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوں گے۔ خاص طور پر ایشیائی ممالک، جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

چین، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور توانائی کا بڑا درآمد کنندہ ہے، اس معاملے میں خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ چینی حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ خطے میں استحکام عالمی اقتصادی توازن کے لیے ناگزیر ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *