اسلام آباد: حکومت نے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے تحت سرکاری اسکولوں کو مرحلہ وار نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانا، انتظامی کارکردگی بڑھانا اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں کم انرولمنٹ اور کارکردگی کے مسائل سے دوچار اسکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت نجی اداروں کے سپرد کیا جائے گا، جبکہ اساتذہ اور عملے کے حقوق کے تحفظ کے لیے الگ پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔
تعلیمی ماہرین اور اساتذہ تنظیموں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نجکاری سے فیسوں میں اضافہ اور کم آمدنی والے طبقے کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسکولوں کی بہتری پر براہِ راست سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فیصلے سے قبل مقامی سطح پر مشاورت اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کے مفادات متاثر نہ ہوں۔
پنجاب میں سرکاری سکولوں کونجی شعبےکو دینے کا تیسرا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
تیسرے مرحلے میں 2 ہزار 735 مزید سکول نجی شعبےکو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پہلے دو مراحل میں 10 ہزار سکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق اس فیصلہ کا مقصد معیارِ تعلیم میں بہتری اور داخلوں میں اضافہ ہدف ہے تاہم طلبہ کو مفت اور معیاری تعلیم کی سہولت جاری رہے گی جبکہ پسماندہ علاقوں کے سکول بھی پروگرام میں شامل ہیں۔