نیشنل بینک کا تاریخی کارنامہ، 35 روپے فی شیئر، 350 فیصد ڈیویڈنڈ دینے کا اعلان

نیشنل بینک کا تاریخی کارنامہ، 35 روپے فی شیئر، 350 فیصد ڈیویڈنڈ دینے کا اعلان

نیشنل بینک آف پاکستان نے مالی سال 2025 میں 85.9 ارب روپے کا ریکارڈ توڑ بعد از ٹیکس منافع حاصل کر لیا ہے، جسے ماہرین بینکاری کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس نمایاں کارکردگی کے بعد ریاستی ملکیت کے اس بڑے بینک نے اپنے شیئر ہولڈرز کے لیے 350 فیصد ڈیویڈنڈ، یعنی 35 روپے فی شیئر دینے کا اعلان کیا ہے، جس سے سرمایہ کار حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بینک کی جانب سے جاری مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس سے پہلے منافع 178.9 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 216 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی آمدنی 311.7 ارب روپے ریکارڈ کی گئی، جس میں 31.9 فیصد کی ترقی دیکھنے میں آئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ مؤثر مالی نظم و نسق، سرمایہ کاری کے بہتر فیصلوں اور ڈیجیٹل بینکاری کی توسیع کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایک سال میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کتنا منافع باہربھیجا؟ سٹیٹ بینک کی رپورٹ جاری

بینک کا کیپیٹل ایڈیکوسی ریشو 26.21 فیصد کی مضبوط سطح پر برقرار رہا، جو ریگولیٹری تقاضوں سے کہیں زیادہ ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بینک مالی طور پر مستحکم اور ممکنہ معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلامی بینکاری کے شعبے میں بھی غیر معمولی ترقی سامنے آئی ہے۔ بینک کے اسلامی بینکاری اثاثے 95.5 فیصد اضافے کے بعد 651.9 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں اسلامی مالیاتی خدمات کی بڑھتی طلب اور شریعہ کمپلائنٹ مصنوعات کی مقبولیت اس تیز رفتار ترقی کی بنیادی وجوہات ہیں۔

مزید برآں، بینک نے سال 2025 کے دوران قومی خزانے میں 93 ارب روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرائے، جس سے حکومتی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا اور معاشی استحکام کی کوششوں کو تقویت ملی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے سال 1447 ہجری، بمطابق 2026، کے لیے زکوٰۃ نصاب کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سیونگز بینک اکاؤنٹس، منافع و نقصان شیئرنگ اکاؤنٹس اور دیگر متعلقہ کھاتوں  کے لیے زکوٰۃ کی کٹوتی کا نصاب 503,529 روپے مقرر کیا گیا ہے۔

نئی حد کے تحت اگر رمضان المبارک 1447 ہجری کے پہلے دن کسی اکاؤنٹ میں موجود رقم 503,529 روپے سے کم ہوگی تو زکوٰۃ کی کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ یہ حد گزشتہ سال کے 179,689 روپے کے نصاب کے مقابلے میں 323,840 روپے زیادہ ہے، جو ایک نمایاں اضافہ ہے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد کے کاروباری مرکز بلیو ایریا میں بینک ڈکیتی، ملزمان 40 لاکھ لے کر فرار

واضح رہے کہ نصاب میں یہ اضافہ ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث کیا گیا ہے، جو عالمی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتے رجحانات کے مطابق ہے۔

حکومت نے رمضان المبارک کے پہلے دن کو سرکاری طور پر کٹوتی کی تاریخ قرار دیا ہے، وزارت غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ نے تمام زکوٰۃ جمع کرنے اور کنٹرول کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نئے نصاب کے مطابق کٹوتی کے عمل کو یقینی بنائیں اور مستحق افراد تک رقوم کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے  کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب نیشنل بینک آف پاکستان کی ریکارڈ منافع خوری ملک کے بینکاری شعبے کی مضبوطی کا ثبوت ہے، تو دوسری جانب زکوٰۃ نصاب میں اضافہ بدلتی معاشی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان دونوں پیش رفتوں کے معاشی اور سماجی اثرات نمایاں طور پر سامنے آنے کی توقع ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *