ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے شروع کی گئی حکمت عملی کے تحت گرین ٹورزم پرائیوٹ لمیٹڈ نے مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ یہ ادارہ گرین پاکستان انیشیٹیو کی سرپرستی میں قائم کیا گیا ہے جو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے زیر اہتمام کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد زراعت، لائیوسٹاک اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق 2024 میں گرین ٹورزم پاکستان کے قیام کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سیاحت کو نہ صرف معاشی سرگرمی بلکہ قومی امیج سازی اور عالمی تشخص کا مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے مربوط منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
گرین ٹورزم نے ملک کے اہم سیاحتی مقامات پر جدید سہولیات سے آراستہ مربوط سیاحتی زونز قائم کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ ان زونز میں رہائش، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی، تفریحی سرگرمیوں اور ڈیجیٹل معلوماتی مراکز جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو عالمی معیار کا تجربہ میسر آ سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق محض 18 ماہ کے دوران 78 سیاحتی املاک کے معاہدے طے پائے، جن میں 17 ہائی اینڈ ہوٹلز اور ریزورٹس شامل ہیں۔ ان میں سے 15 فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی سرپرستی اور پالیسی سپورٹ کے باعث سیاحتی شعبہ اب محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر ابھر رہا ہے۔
گرین ٹورزم پاکستان کی اولین ترجیح سیاحتی شعبے میں موجود ضابطہ جاتی خلا کو پُر کرنا، تشہیری کمزوریوں کو دور کرنا اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں سڑکوں کی بہتری، صفائی ستھرائی، ماحول دوست اقدامات اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو سیاحت ملکی معیشت میں خاطر خواہ حصہ ڈال سکتی ہے، روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور پاکستان عالمی سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹیو کی رہنمائی میں گرین ٹورزم قومی سیاحت کو عالمی تشخص اور پائیدار ترقی کی نئی جہت دے رہا ہے، جس سے نہ صرف معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ ملک کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہوگا۔