صارفین ہوشیار، پاکستان میں گیس بحران کا خدشہ، شارٹ فال 700 ملین مکعب فٹ سے تجاوز کرگیا

صارفین ہوشیار، پاکستان میں گیس بحران کا خدشہ، شارٹ فال 700 ملین مکعب فٹ سے تجاوز کرگیا

ایل این جی کی درآمدی سپلائی متاثر ہونے سے پنجاب بھر میں ‘گیس بندش’، سی این جی سیکٹر کو سپلائی معطل، گھریلو صارفین کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

خطے میں جاری جنگ اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال نے پاکستان کو ایک نئے اور شدید توانائی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ایل این جی کی سپلائی لائن متاثر ہونے کے باعث سوئی ناردرن گیس کمپنی کا شارٹ فال 700 ملین مکعب فٹ کی ریکارڈ سطح کو عبور کر گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گیس قلت کی قیاس اآرائیاں دم توڑ گئیں،ایل پی جی درآمد سے متعلق بڑی خبر

اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام بڑے شہروں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور کم پریشر کی شکایات میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

میڈیا ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو آئندہ چند روز میں یہ شارٹ فال 900  ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے خسارے کو پورا کرنے کے لیے سوئی ناردرن انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی مشکلات کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

گھریلو صارفین، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اب گیس غائب ہونے کے باعث دہری اذیت کا شکار ہیں۔ موجودہ پالیسی کے تحت، شہریوں کو صرف کھانا بنانے کے مخصوص اوقات میں چند گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے، تاہم کچی آبادیوں اور ’ٹیل‘ (آخری سرے) پر واقع علاقوں میں گیس کا پریشر صفر ہونے کے برابر ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں ایل این جی کے کارگو جہازوں کی آمد میں تاخیر اور درآمدی دشواریاں اس بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔

واضح رہے کہ آئندہ ہفتے تک ایل این جی کی سپلائی میں مزید کمی کا خدشہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ صنعتی اور گھریلو صارفین کو مزید ‘سخت لوڈشیڈنگ’ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ متبادل ذرائع اور عالمی سپلائرز سے رابطے میں ہیں تاکہ اس ‘ٹیکنیکل شارٹ فال’ کو جلد از جلد کم کیا جا سکے، تاہم فی الحال عوام کو کفایت شعاری سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *