بنگلا دیش کے تاریخ ساز عام انتخابات میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے واضح اکثریت حاصل کر کے میدان مار لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 299 میں سے 297 حلقوں کے نتائج کا اعلان کیا ہے جبکہ چاٹوگرام کے دو حلقوں کے نتائج دھاندلی اور بد انتظامی کے الزامات کے باعث موخر کر دیے گئے ہیں۔
حتمی نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو مجموعی طور پر 212 نشستیں حاصل ہوئی ہیں، جس میں جماعت اسلامی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی 77 نشستیں شامل ہیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کی چھ نشستیں بھی اتحادی جماعتوں کے حصے میں آئیں۔ انفرادی طور پر بی این پی نے 209 اور جماعت اسلامی نے 68 نشستیں جیت لیں۔ عام انتخابات میں 60 فیصد سے زائد ووٹر ٹرن آوٹ ریکارڈ کیا گیا۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ جن کے ساتھ تحریک چلائیں گے، ملک بھی انہی کے ساتھ چلائیں گے۔ انہوں نے کارکنوں سے خصوصی دعاؤں، ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی اور امن عامہ کو اولین ترجیح قرار دیا۔
جماعت اسلامی بنگلا دیش نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی ہے۔ کارکنوں سے خطاب میں جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت نہیں کریں گے بلکہ تعمیری اور عوام کے مفاد میں سیاست کو ترجیح دیں گے۔ سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد اپنا حتمی موقف دیں گے، جو مثبت ہوگا۔ نیشنل سیٹیزن پارٹی کے کنوینیئر ناہد اسلام نے بھی جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اسی دوران بنگلا دیش میں قومی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں 72.9 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں اور 27.1 فیصد نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ ریفرنڈم میں عوام سے ایک سوال کے جواب میں ہاں یا ناں کا انتخاب کرنا تھا، جس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات پر رائے لی گئی۔ مجوزہ ترامیم میں نئے آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا اور ایوانِ بالا کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔
واضح رہے کہ ووٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے سے شروع ہو کر ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔ 300 میں سے 299 نشستوں پر 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث الیکشن ملتوی کیا گیا تھا۔