’مریض مرتا ہے، مرنے دو، آگے گزرنے نہیں دیں گے‘ پی ٹی آئی دھرنے کے شرکا نے گاڑی روک دی، ویڈیو وائرل

’مریض مرتا ہے، مرنے دو، آگے گزرنے نہیں دیں گے‘ پی ٹی آئی دھرنے کے شرکا نے گاڑی روک دی، ویڈیو وائرل

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حالیہ دھرنے کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ عینی شاہدین اور وائرل ویڈیو کے مطابق احتجاج کے مقام پر موجود کارکنوں نے ایک مریض کو لے جانے والی گاڑی کو آگے بڑھنے سے روک دیا، حالانکہ گاڑی میں موجود مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہائوس کے مرکزی گیٹ کے سامنے دھرنا دے دیا

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی میں موجود افراد بار بار راستہ دینے کی اپیل کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ مریض کی حالت نازک ہے، تاہم چند مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر یہ الفاظ کہے گئے کہ ’مریض مرتا ہے تو مرنے دو، ہم آگے نہیں گزرنے دیں گے‘۔ اس دوران گاڑی میں موجود مریض کو تکلیف میں مبتلا دیکھا گیا جبکہ اس کے اہل خانہ شدید اضطراب میں مبتلا تھے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی بڑی تعداد نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ متعدد صارفین نے اسے انسانیت کے منافی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر کسی مریض کی جان کو خطرے میں ڈالنا ناقابل قبول ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر صارفین انتہائی غصے میں ہیں اور پی ٹی آئی کے اس فعل کو انسانیت کی بدترین مثال قرار دی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ مریض کو راستہ نہ دینا اور ایسا کہنا کہ ’مرتا ہے تو مرنے دو‘ انسانیت کی بدترین مثال ہے۔

کئی سوشل میڈیا صارفین نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرتے ہیں اور سیاسی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں۔ بعض حلقوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران ایمرجنسی گاڑیوں اور مریضوں کو فوری راستہ دینے کو یقینی بنایا جائے۔

اخلاقی پہلو

واضح رہے کہ  کسی بھی عوامی احتجاج یا دھرنے کے دوران ہنگامی خدمات کو راستہ دینا قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ٹریفک قوانین اور ضابطہ فوجداری کے تحت ہنگامی صورت حال میں امدادی گاڑیوں کو روکنا قابل گرفت عمل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:وزارت مذہبی امور کا پی ٹی اے کو گستاخانہ اور غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا خط

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے مگر انسانی جان سے بڑھ کر کوئی سیاسی مقصد نہیں ہو سکتا ہے۔ واقعے کے بعد تاحال پارٹی کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ واقعہ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ سیاسی کشیدگی کے ماحول میں بھی انسانی ہمدردی اور بنیادی اخلاقی اقدار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاجی سیاست اور انسانی جان کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھنا ریاست اور سیاسی جماعتوں دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *