مقبوضہ جموں کشمیر کے سابق ڈپٹی سیکرٹری فاروق کرمانی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نہ صرف پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مسلمانوں کے لیے بھی امید کی کرن کی حیثیت رکھتی ہیں۔
پیر کو مظفرآباد میں اوورسیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فاروق کرمانی نے بتایا کہ ان کے والد مقبوضہ کشمیر کے ایک معروف سیاستدان تھے اور وہ خود بھی سرکاری سروس میں ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر فائز رہے۔
ان کے بقول، سرکاری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انہیں خطے کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، تاہم یہ تجربہ ان کے لیے خوشگوار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’وہاں کے حالات دیکھ کر مجھے گھٹن محسوس ہوتی تھی، میں نے اعلیٰ تعلیم کا بہانہ بنایا اور بھارت چھوڑ دیا، بعد ازاں میں نے یو کے میں مستقل قیام اختیار کر لیا‘۔
آزادی اور محرومی کا تقابل
سابق کشمیری افسر نے کہا کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو جن مشکلات اور پابندیوں کا سامنا ہے، اسے دیکھ کر انہیں حیرت ہوتی ہے کہ پاکستان اور آزاد جموں کشمیر کے لوگ اپنی آزادی کی قدر کیوں نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’سلب شدہ آزادی کی اصل اہمیت وہی جان سکتا ہے جس سے آزادی چھین لی گئی ہو‘۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سیاسی، سماجی اور مذہبی سطح پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں جن پر عالمی سطح پر توجہ کی ضرورت ہے۔
دو قومی نظریہ اور بدلتا مؤقف
فاروق کرمانی نے اپنے خیالات میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں انہیں دو قومی نظریہ کی حقیقت پر یقین نہیں تھا، تاہم وقت کے ساتھ تجربات اور مشاہدات نے ان کی سوچ کو بدل دیا۔
ان کے بقول ’جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا اور حالات کو سمجھتا گیا، مجھے یہ احساس ہوا کہ ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان نہ صرف جموں کشمیر کے مسلمانوں بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے‘۔
مسئلہ کشمیر پر مؤقف
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل پاکستان سے الحاق ہی ہے اور اس حوالے سے افواج پاکستان کو ایک امید کی علامت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور پاکستان کی سلامتی یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
فاروق کرمانی کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسئلہ کشمیر ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کشمیری نژاد سابق بیوروکریٹ کی جانب سے ایسے خیالات کا اظہار خطے کی سیاسی فضا میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد سے خطے کی صورتحال پر مختلف حلقوں کی جانب سے متضاد آرا سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ پاکستان مسلسل کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتا آیا ہے۔