غزہ مغربی کنارے کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوشش، پاکستان کا سخت ردعمل

غزہ مغربی کنارے کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوشش، پاکستان کا سخت ردعمل

پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے کو مبینہ طور پر ’ریاستی ملکیت‘ میں تبدیل کرنے اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قابض طاقت کے یکطرفہ اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ویسٹ بینک کی زمین کو سرکاری تحویل میں لینے اور نئی آبادکاری کی پالیسی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ایسے اقدامات کو عالمی برادری کی جانب سے فوری طور پر مسترد کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے مغربی کنارے میں اسرائیلی توسیح منصوبہ مسترد کردیا

پاکستان نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل پالیسیوں سے نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ پورے خطے کا امن اور استحکام بھی داؤ پر لگ رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزیوں پر خاموشی دراصل استثنیٰ کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا مؤثر احتساب یقینی بنائے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے عملی اقدامات کرے۔

پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل ریاستِ فلسطین کا قیام ناگزیر ہے، جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے مسئلے پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مستقل پالیسی دو ریاستی حل کی حمایت پر مبنی رہی ہے اور حالیہ بیان اسی مؤقف کا تسلسل ہے۔

Related Articles