حکومتِ پاکستان نے ملکی معیشت کو سہارا دینے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے بیرونِ ملک موجود پاکستانیوں کی خطیر دولت وطن واپس لانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطح کے حالیہ اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی حالات، خاص طور پر ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں، پاکستانی اپنی دولت کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان ان کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:10 ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری میں ساڑھے 16 فیصد اضافہ
حکومتی ذرائع کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں پاکستانیوں کے تقریباً 20 ارب ڈالر (جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 5.6 کھرب روپے بنتے ہیں) موجود ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو 2018 اور 2019 کی ایمنسٹی اسکیموں میں ظاہر تو کی گئی تھی لیکن ابھی تک پاکستان منتقل نہیں ہوئی۔ ریکارڈ کے مطابق ان اسکیموں میں ‘82889’ گوشوارے جمع کرائے گئے تھے جن سے حکومت کو 194 ارب روپے کا ٹیکس حاصل ہوا تھا۔
حکومت اب ‘روشن ڈیجیٹل اسکیم’ کو مزید پرکشش بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ یہ سرمایہ پاکستان لایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک انقلابی تجویز زیرِ غور ہے جس کے تحت نہ صرف اوورسیز پاکستانی بلکہ کسی بھی ملک کے شہری اور غیر ملکی کمپنیوں کو بھی روشن ڈیجیٹل اسکیم میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں مقیم شہریوں کو بھی اس اسکیم کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ اندرونِ ملک ڈالر کی بچت کی جا سکے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک اور بڑی مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تجویز کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے جائیداد کی خریداری پر صرف قیمت کے ’10’ فیصد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:ملک میں جنوری میں 9.92 کروڑ ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوئی، اسٹیٹ بینک

