مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث عالمی بحری تجارت کے نقشے میں بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کا کراچی پورٹ ایک کلیدی علاقائی بحری تجارتی مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات نے جہاں روایتی سمندری راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، وہی عالمی شپنگ کمپنیوں نے کراچی کو نسبتاً ‘محفوظ اور مستحکم’ بندرگاہ قرار دیتے ہوئے اپنے جہازوں کا رخ یہاں موڑنا شروع کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ کی سرگرمیوں میں ایسا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ جہاں پورے سال 2025 کے دوران تقریباً 8,300 ٹی ای یوز (کنٹینرز) ہینڈل کیے گئے تھے، وہاں صرف گزشتہ 24 دنوں کے اندر یہ تعداد بڑھ کر 8,860 ٹی ای یوز تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ محض چند ہفتوں میں ہونے والا کام پورے ایک سال کی کارکردگی سے تجاوز کر گیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔
بحری امور سے وابستہ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز‘ (اسٹریٹ آف ہرمز) کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی بیڑے اب ان خطرناک علاقوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں اور اس تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کے لاجسٹکس، بندرگاہی خدمات اور گوداموں (ویئر ہاؤسنگ) کے شعبے میں ہزاروں نئی ملازمتیں اور اربوں روپے کے زرمبادلہ کی توقع کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس اچانک بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے کراچی پورٹ کے انفراسٹرکچر میں فوری بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر کسٹمز کے نظام کو مزید تیز اور جدید نہ بنایا گیا تو بندرگاہ پر ’رش اور تاخیر‘ کے باعث عالمی کمپنیوں کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔
اس وقت کراچی پورٹ پر کنٹینرز کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو جہاں ایک طرف معاشی سرگرمی کی علامت ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہیں۔ اگر پاکستان نے اس موقع سے درست فائدہ اٹھایا تو کراچی پورٹ خطے کا سب سے بڑا تجارتی ‘ہب’ بن سکتا ہے۔