ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں شدید سردی کے باعث دھند کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے، دھند کا سلسلہ بڑھنے لگا ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی اور فضائی معیار دونوں شدید متاثر ہورہے ہیں۔ موٹروے پولیس کے مطابق شدید دھند کے پیش نظر موٹروے ایم ون کو پشاور ٹول پلازہ سے رشکئی تک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں حادثات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ مسافروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، رفتار کم رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال لازمی کریں۔ موٹروے پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر اہلکار تعینات ہیں جو ڈرائیوروں کو صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی مسلسل خطرناک سطح پر برقرار ہے۔ عالمی ماحولیات ویب سائٹ کے مطابق صبح کے وقت لاہور 212 ایئر پارٹیکولیٹ میٹرز کے ساتھ دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سطح کی آلودگی شہریوں کی صحت کے لئے نہایت مضر ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لئے۔
لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں اسموگ کے باعث حدِ نگاہ کم اور فضا دھندلائی ہوئی ہے۔ شہری ماسک کے استعمال میں اضافہ کر رہے ہیں جبکہ حکومتی اداروں نے بھی آلودگی کے باعث احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ بعض علاقوں میں اسموگ کی شدت کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں حاضری کم دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی اخراج، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اور موسمی حالات اسموگ کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے۔