ضمنی انتخابات: پی پی۔116 میں دھاندلی کے الزامات پر رانا ثنا اللہ کا بڑا اعلان

ضمنی انتخابات: پی پی۔116 میں دھاندلی کے الزامات پر رانا ثنا اللہ کا بڑا اعلان

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ پنجاب کے حلقہ  پی پی۔ 116 کے ضمنی انتخاب میں ایک بھی ووٹ دھاندلی سے ڈالا گیا تو وہ اپنے عہدے سے فوراً استعفیٰ دے دیں گے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حلقہ پی پی۔116 میں ڈالے گئے تقریباً 50 ہزار ووٹ ایک صحت مند انتخابی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور ضمنی انتخاب کے ماحول کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ایک مضبوط ٹرن آؤٹ سمجھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، رانا ثنا اللہ پر 50 ہزار روپے جرمانہ

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ ’پی پی-116 میں ووٹ ڈالنے والوں میں سے 15 ہزار وہ ووٹر تھے جنہوں نے پہلے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، جو خود یہ ثابت کرتا ہے کہ مقابلہ منصفانہ تھا اور دھاندلی کے بیانیے میں کوئی وزن نہیں‘۔

اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کر دیا

اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی اور ریاستی مداخلت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن محاذ آرائی کے بیانیے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے ان الزامات پر بھی سوال اٹھایا جنہیں کچھ رہنماؤں نے مبینہ طور پر ’اسلام آباد پر حملے‘ کے منصوبوں سے جوڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’کیا یہ بھی ہماری غلطی ہے کہ وہ اسلام آباد پر حملہ کرنے کی سیاست کرنا چاہتے ہیں؟ حکومت نے نہ کبھی 9 مئی جیسے واقعات کی حمایت کی اور نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کی‘۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر تشدد میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا تو ’یہ سلسلہ آگے بڑھ کر ہر شخص کو کسی کے گھر پر حملہ کرنے کی جسارت دے سکتا ہے‘۔

پی ٹی آئی کی کمزور متحرک صلاحیت پر تبصرہ

رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پارٹی کی کچھ ووٹنگ سپورٹ اب بھی موجود ہے، لیکن یہ صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی حالیہ احتجاجی کالز عوامی دلچسپی حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور اکثر مظاہروں میں 100 سے 150 سے زیادہ افراد شامل نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں:مسلم لیگ ن سے خفیہ رابطے؟ رانا ثنا اللہ کا پی ٹی آئی اراکین سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف

انہوں نے مزید کہا کہ عام انتخابات 2024 کے دوران بھی کچھ حلقوں میں ووٹرز کی عدم دلچسپی واضح تھی، جس کا پی ٹی آئی کو نقصان ہوا۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق صوبائی حکومت کی کارکردگی، خصوصاً پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی محنت، عوام میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔

انتظامی کارکردگی نے عوامی اعتماد مضبوط کیا

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ اگرچہ خود کو سی سی ڈی پر تنقید کرنے والوں میں ہیں، لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی نے عوامی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت کے اقدامات عوام تک پہنچے ہیں اور ان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ  پی پی۔116 کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی ثابت ہونے پر ان کا استعفیٰ تیار ہے اور وہ اس معاملے پر شفاف تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *