پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک بڑا آپریشن کیا ہے جس کے نتیجے میں ‘فتنہ الخوارج’ سے تعلق رکھنے والے 22 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔
پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہلاک شدہ دہشتگردوں کا تعلق بھارتی حمایت یافتہ پراکسی فتنہ الخوارج سے تھا’۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز سے نشانہ بنایا اور علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ سینٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ مزاحمت یا دوبارہ منظم ہونے کے خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’غیر ملکی حمایت یافتہ خوارج دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا‘۔ ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی مواد برآمد ہوا، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں اور ملحقہ علاقوں میں اضافی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں جبکہ مقامی آبادی کو صورت حال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ سینٹائزیشن آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز علاقے کے راستوں، محفوظ پناہ گاہوں اور چھپنے کے ممکنہ مقامات کا مکمل جائزہ لے رہی ہیں تاکہ دہشتگردوں کے کسی بھی دوبارہ ابھرنے کے خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں اسی عزم اور رفتار سے جاری رہیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی قسم کی گنجائش نہیں دی جائے گی۔