سیکیورٹی ذرائع نے افغانستان کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ پاکستانی حملوں کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تمام بیانات جھوٹا پراپیگنڈا اور حقیقت کے منافی ہیں۔
افغان طالبان بھی بھارت کے نقش قدم پر چل نکلے ، افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ رات تقریباً بارہ بجے صوبہ خوست کے ضلع گربز میں پاکستانی فورسز نے مقامی شہری کے گھر پر بمباری کی جو کہ حقیقت کے برخلاف اور جھوٹ کا پلندہ ہے ۔
اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کوئی فضائی حملہ نہیں کیا ہے اور جب بھی پاکستان کوئی کارروائی کرتا ہے تو اسے ذمہ داری کے ساتھ قبول کرتا ہے ، اس سوشل میڈیا پوسٹ میں افغان ترجمان کے بتائے علاقوں میں کسی بھی حملے کا تعلق زیادہ تر افغانستان کے اندرونی جھگڑوں سے ہوتا ہے یا پھر یہ ایسا ڈرامہ ہوتا ہے جو بھاری تعداد میں افغانستان میں موجود بھارتی ایجنٹس نے خوارج کے ذریعے رچایا ہوتا ہے ۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان ہمیشہ اپنی اندرونی مشکلات کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی زیادہ تر تصاویر پرانی یا جعلی ہیں ۔
سوشل میڈیا پر پاکستان کے فضائی حملوں سے متعلق تصاویر جنہیں افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے شیئر کیا ہے، شواہد اور ٹیکنالوجی سے کی گئی جانچ پڑتال نے ان دعوؤں کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔
طالبان ترجمان کی جانب سے پوسٹ میں شامل تصاویر کسی گھر کی نہیں بلکہ استعمال شدہ (سٹاک امیج) سے لی گئی ہیں ، یہ تصاویر 20 نومبر کو پکتیکا میں ہونیوالے حملے کی ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور Grok سمیت متعدد آن لائن ویریفیکیشن ٹولز کی جانب سے کی گئی جانچ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر نہ صرف پرانی ہیں بلکہ مختلف مواقع پر پہلے بھی استعمال ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوٹو فورنزک اور امیج ٹریکنگ ٹولز نے یہ دکھایا کہ پوسٹ کی گئی تصاویر پہلے مختلف عالمی واقعات میں استعمال ہو چکی ہیں، جنہیں اب پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بنانے کے لیے دوبارہ پیش کیا گیا۔
افغان طالبان ترجمان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی اکثرغیر مصدقہ تصاویر، گمراہ کن مواد شیئر کی جاتی ہیں تاہم جدید ٹیکنالوجی نے افغان طالبان کا پھیلایا گیا بیانیہ ایک بار پھر جھوٹا ثابت کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور پاکستان کے جوابی ردِعمل سے خوفزدہ ہے ، خاص طور پر اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور کے دہشت گرد حملوں کے بعد اسے پاکستان کے ممکنہ ردِعمل کا اندیشہ ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جب ہم کسی حملے کا جواب دیں گے تو سب کو معلوم ہوگا بالکل ویسے ہی جیسے اکتوبر میں کابل روشن ہو گیا تھا، حسبِ معمول اس جھوٹے بیانیے کو افغانستان کے نئے بہترین دوست بھارت نے بھی اٹھا لیا ہے اور سوشل میڈیا پر نام نہاد پراپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔