فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں، انہی خوش نصیب عازمین میں ایک نومسلم شخصیت بھی شامل ہے جن کی ایمان افروز داستان لوگوں کا دل موہ لیا ہے ۔
اٹلی سے تعلق رکھنے والے محمد لوقا آج منیٰ میں دیگر حجاج کرام کے ساتھ مناسکِ حج ادا کر رہے ہیں، مگر ان کے قبولِ اسلام کا سفر ایک حیرت انگیز لمحے سے شروع ہوا تھا۔
محمد لوقا کے مطابق وہ صرف 12 برس کے تھے جب پہلی بار انہوں نے ٹی وی پر اذان کی آواز سنی۔ وہ لمحہ ان کی زندگی میں ایک نئی سوچ کا آغاز ثابت ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اذان کی آواز میں ایک عجیب کشش، سکون اور روحانی تاثیر تھی جس نے ان کے دل پر گہرا اثر چھوڑا، اسی احساس نے انہیں اسلام کے بارے میں مزید جاننے پر آمادہ کیا۔
انہوں نے کئی سال تک اسلام کا تفصیلی مطالعہ کیا اور مختلف مذاہب کا تقابلی جائزہ بھی لیا ، سچائی کی تلاش میں انہوں نے اسلامی تعلیمات، عقائد اور طرزِ زندگی کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی، طویل غور و فکر کے بعد آخرکار انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دی۔
محمد لوقا کا کہنا ہے کہ اسلام نے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کی ا ور انہیں نہ صرف جینے کا بہتر انداز ملا بلکہ زندگی اور موت کے فلسفے کو بھی نئی روشنی میں سمجھنے کا موقع ملا ، وہ اسلام قبول کرنے کے فیصلے کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت اور اہم فیصلہ قرار دیتے ہیں۔
آج محمد لوقا لاکھوں فرزندانِ اسلام کے ساتھ منیٰ میں موجود ہیں اور حج جیسی عظیم عبادت ادا کر رہے ہیں، ان کی کہانی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ کبھی ایک آواز، ایک لمحہ یا ایک احساس انسان کی پوری زندگی بدلنے کا سبب بن جاتا ہے۔
ان کا سفرِ ایمان دنیا بھر کے لوگوں کیلئے امید، روحانی جستجو اور سچائی کی تلاش کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حج کے ان مبارک دنوں میں حرمین کے بلند میناروں سے گونجنے والی اذانیں اور چاروں طرف سے بلند ہونے والی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صدائیں ان کے اندر بندگی کا ایک انوکھا احساس بیدار کر رہی ہیں۔