دہشتگرد بلال شاہوانی: ایک ‘گمشدہ شخص’ سے خودکش بمبار تک !

دہشتگرد بلال شاہوانی: ایک ‘گمشدہ شخص’ سے خودکش بمبار تک !

کوئٹہ کے چمن پھاٹک میں ہونے والے خودکش دھماکے نے نام نہاد ’مسنگ پرسنز‘ بیانیے پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ۔ جس بلال شاہوانی کو بعض حلقے گزشتہ کئی ماہ سے ’لاپتہ شخص‘ قرار دے کر حکومت پر الزامات عائد کر رہے تھے اسی شخص کو اب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے خودکش بمبار کے طور پر سامنے لا کر پورے پروپیگنڈے کی حقیقت آشکار کر دی ہے۔

حقیقتِ حال اور پروپیگنڈے کا پردہ فاش ہو چکا، کوئٹہ کے چمن پھاٹک میں آج صبح ہونے والا خودکش دھماکہ نہ صرف ایک دہشتگردانہ کارروائی تھا بلکہ بلوچستان کے نام نہاد ‘مسنگ پرسنز’ پروپیگنڈے کی پوری عمارت کو ایک دھچکے میں گرا دینے والا واقعہ بھی۔

بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے خود ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بمبار کی شناخت بلال شاہوانی کے نام سے جاری کی۔ یہ وہی بلال شاہوانی ہے جسے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) اور مہارنگ لانگو سمیت کچھ ‘انسانی حقوق کے چیمپیئن’ گروپوں نے گزشتہ برس دسمبر میں ‘لاپتہ’ قرار دے کر بھرپور احتجاج کیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :کوئٹہ دھماکہ قابل مذمت،بزدلانہ حملے انسانیت کے خلاف جرم ہیں، وزیر اعظم بنگلہ دیش 

حقیقت یہ ہے کہ بلال شاہوانی بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کا تربیت یافتہ دہشتگرد تھا۔ اس نے 39 کلو سے زائد بارودی مواد سے بھری گاڑی ٹرین کے قریب دھماکے سے اڑا دی۔جس کے نتیجے میں 24 سے زائد معصوم شہید، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، جبکہ 70 سے زائد زخمی۔ یہ تمام لوگ بلوچ تھے ، وہی بلوچ جن کی ‘آزادی’ کا نعرہ لگا کر BLA اور اس کے سہولت کار جال بچھاتے ہیں۔ ایک بلوچ صحافی کے خاندان سمیت عام گھروں کو نشانہ بنایا گیا جس سے مالی نقصان الگ، انسانی تباہی الگ ہوئی۔

 یہ بھی پڑھیں :کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ سے متعلق   را   کے زیر اثر چلنے والے ایکس اکائونٹس کی گمراہ کن پروپیگنڈ ہ مہم کا پردہ چاک 

یہ پہلا موقع نہیں، بی ایل اے ہر دہشتگردانہ کارروائی سے پہلے یا بعد میں ‘لاپتہ افراد’ کی فہرست جاری کرتا ہے اور انہیں اپنا ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔ پھر جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ‘انسانی حقوق’ والے خاموش ہو جاتے ہیں۔۔ آج جب بی ایل اے نے خود اسے اپنا بمبار قرار دیا تو ان سب کی زبان بند؟ یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے؟

editor

Related Articles