اے این پی کے رہنما امیرحیدر خان ہوتی نے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنرشپ کے حوالے سے اب تک وفاقی حکومت کی جانب سے ان سے یا پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
اے این پی رہنما نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زیر گردش خبروں کے باوجود کسی نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا اور پارٹی فیصلوں کا پابند ہونے کے ناطے وہ خود کسی فیصلہ میں فرد واحد کے طور پر شامل نہیں ہیں۔
امیرحیدر ہوتی نے مزید کہا کہ وہ اے این پی کے کارکن ہیں اور گورنرشپ سے متعلق کوئی بھی حتمی فیصلہ پارٹی کرے گی ان کے مطابق گورنر راج لگانے یا کسی تبدیلی کے سلسلے میں ہر اقدام پارٹی کے مشترکہ فیصلے پر منحصر ہوگا۔
یاد رہے کہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے اور موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو برقرار رکھنے کا امکان ہےتاہم اگر کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کی گئی تو تین سیاسی شخصیات کے نام زیر غور ہیں جن میں امیرحیدر ہوتی، پرویز خٹک اور آفتاب شیرپاؤ شامل ہیں۔
اگر سیاسی شخصیات پر اتفاق نہ ہوا تو گورنرشپ کے لیے دو سابق فوجیوں کے نام بھی زیر غور ہیں، جن میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی کے نام شامل ہیں۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گورنرشپ کے فیصلے میں مذاکرات جاری ہیں اور حتمی فیصلہ آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
امیرحیدر ہوتی کے بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گورنرشپ کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی رابطہ یا فیصلہ نہیں ہوا، اور پارٹی کی اجازت اور مشاورت کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں کی جائے گی ۔