ملک کے بالائی علاقوں میں جاری سردی کی لہر کے ساتھ بڑھتی ہوئی دھند نے ٹریفک نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے موٹروے پولیس کے مطابق حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث موٹروے ایم ون کو پشاور سے رشکئی تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دھند کی شدت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ معمول کی رفتار پر سفر کرنا ڈرائیورز اور مسافروں کے لیے نہایت خطرناک ہو گیا تھا، جس کے پیشِ نظر شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔
ترجمان موٹروے پولیس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقامات پر حدِ نگاہ چند میٹر تک محدود ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کو سامنے سے آتی ٹریفک، لین تبدیل کرنے والے ڈرائیورز یا سڑک پر موجود رکاوٹوں کو دیکھنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
اس صورتحال میں حادثات کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اس لیے موٹروے کی بندش ایک حفاظتی اقدام کے طور پر اختیار کی گئی ہے۔شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے موٹروے پولیس نے کہا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے اور اگر کسی مجبوری کے تحت سفر کرنا ہی پڑے تو رفتار انتہائی کم رکھی جائے۔
گاڑی کی ہیڈ لائٹس نیچی رکھی جائیں، فوگ لائٹس کا استعمال کیا جائے اور گاڑیوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھا جائےترجمان کا کہنا تھا کہ ایسے موسم میں محتاط ڈرائیونگ جان بچانے کے مترادف ہے۔موٹروے پولیس نے بتایا کہ سڑک پر کوئیک ریسپانس ٹیمیں موجود ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورت میں فوری مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
جیسے ہی دھند کی شدت میں کمی آئے گی اور حدِ نگاہ معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی،موٹروے کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے اور دورانِ سفر ٹریفک اپ ڈیٹس اور موٹروے پولیس کی جاری کردہ تازہ ترین ہدایات ضرور چیک کریں۔
ادھر ملک کے مختلف تعلیمی اداروں نے موسمِ سرما کی تعطیلات کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے، جس کے بعد سردی کے بڑھتے ہوئے موسم اور دھند کی صورتحال نے روزمرہ معمولاتِ زندگی پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔