گلوبل پیس انڈیکس نے دنیا کے پُرامن ترین ممالک کی تازہ ترین فہرست جاری کی ہے، جس میں 163 ممالک کا تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس درجہ بندی میں ممالک کی پُرامنی کا تعین کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جرائم کی شرح کو دی گئی ہے، جبکہ فوجی سرگرمیاں، سیاسی عدم استحکام اور ملکی اندرونی تنازعات و اختلافات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
مزید براں، ممالک کے تعلیم، انصاف، صحت، سماجی بہبود کے نظام کے علاوہ ڈیجیٹل سیکیورٹی اور بنیادی سہولتوں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان تمام عوامل کی بنیاد پر سب سے زیادہ محفوظ ملک کا اعزاز 2008 سے لے کر آج تک آئس لینڈ کے پاس برقرار ہے۔
آئس لینڈ کے بعد آئیرلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریا نے پُرامنی میں اعلیٰ رینک حاصل کی۔ سنگاپور، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، ڈنمارک، سلوینیا اور فن لینڈ بالترتیب پانچویں سے دسویں نمبر پر ہیں۔
ملائیشیا 13 ویں نمبر پر فہرست میں سب سے پہلا مسلم ملک ہے۔ پاکستان اس فہرست میں 144 ویں نمبر پر ہے جبکہ افغانستان 158 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ روس سب سے آخری یعنی 163 ویں نمبر پر ہے۔ اسرائیل 155 ویں نمبر پر جبکہ بھارت 115 ویں نمبر پر درجہ بندی میں شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ درجہ بندی ممالک کی داخلی پُرامنی صورتحال، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فعالیت اور شہریوں کی زندگی کی معیار کے مجموعی جائزے پر مبنی ہے۔ اس فہرست سے عالمی سطح پر امن و سلامتی کے موجودہ رجحانات اور خطرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
گلوبل پیس انڈیکس کیا ہے؟
گلوبل پیس انڈیکس دنیا کے ممالک میں امن و پُرامنی کی صورتحال کا جائزہ لینے والا ایک بین الاقوامی معیار ہے، جو ہر ملک کی داخلی اور خارجی پُرامنی کی سطح کو پیمائش کے ذریعے درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ انڈیپینڈنٹ تھنک ٹینک “انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس” (IEP) تیار کرتا ہے اور اس کا مقصد دنیا بھر میں امن کی موجودہ صورتحال کی شفاف تصویر پیش کرنا ہے۔
اس انڈیکس میں ممالک کی درجہ بندی کرنے کے لیے کئی اہم عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان میں جرائم کی شرح، فوجی سرگرمیاں، سیاسی استحکام، داخلی تنازعات، اور نسلی یا مذہبی فسادات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے تعلیمی، صحت، انصاف اور سماجی بہبود کے نظام کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سیکیورٹی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔