خیبرپختونخوا میں موجود غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے معاملے پر سست روی کا صوبائی محکمہ داخلہ نے نوٹس لے لیا ۔
محکمہ داخلہ نے صوبے میں موجود غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف مؤثر آپریشن نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائیاں تیز کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دیں۔
محکمہ داخلہ پختونخوا کے مطابق افغان شہریوں کے انخلا کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے، کرائے کے گھروں میں مقیم افغان باشندوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، افغان مہاجرین کے لیے قائم کیمپ صوبائی حکومت کے لیے مالی بوجھ بن چکے ہیں اس لیے انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ حکومت مزید اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔
محکمہ داخلہ خیبرپختونخوا کے مطابق غیر قانونی طور پر موجود افغان شہریوں کا ڈیٹا ضلعی پولیس افسران کو فراہم کرکے کارروائیوں کا آغاز کیا جائے، جہاں جہاں افغان باشندوں کا ڈیٹا مرتب ہوا ہے اسے متعلقہ محکموں کے حوالے کرنے کا انتظام کیا جائے اور صوبے میں موجود غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف موثر کارروائیوں کی ہدایت جاری کی ہے ۔
غیر قانونی افغان باشندوں کی رجسٹریشن کیلئے سروس پوائنٹس قائم کرنے کا فیصلہ
علاوہ ازیں خیبرپختونخوا حکومت نے غیر قانونی افغان باشندوں کی رجسٹریشن کیلئے سروس پوائنٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اعلامیہ میں تمام ڈویژنز و اضلاع میں سروس پوائنٹس کے قیام اور عملے کی تعیناتی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو رجسٹریشن مراکز پر مستند ڈیٹا اندراج یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سکیورٹی انتظامات اور عوامی رہنمائی کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے رجسٹریشن مہم کی پیش رفت رپورٹ باقاعدگی سے بھیجنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، نادرا، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو افغان باشندوں کی بائیو میٹرک تصدیق کے ساتھ ساتھ ڈیٹا شیئرنگ اور ریکارڈ اپ ڈیٹ کیلئے مشترکہ میکنزم بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
فیلڈ افسران کو رجسٹریشن عمل میں ہراسانی یا غیر ضروری تاخیر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے، شکایات کے ازالے کیلئے ہیلپ لائن اور کمپلینٹ سیل فعال کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔