پاکستان اور کرغزستان نے باہمی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے تجارت، توانائی، تعلیم اور علاقائی رابطوں سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ کرغزستان کے صدر سادر ژپاروف نے ایوانِ صدر میں پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے تفصیلی ملاقات کی،دونوں رہنماؤں نے ملاقات سے قبل ایک مختصر ون آن ون نشست بھی کی، جس میں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر براہِ راست گفتگو ہوئی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دو دہائیوں بعد ہونے والا کرغز صدر کا دورہ پاک کرغز تعلقات میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، انہوں نے اس تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے کا ذکر بھی کیا جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کی حقیقی معاشی صلاحیت کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا، اس لیے اس میں نمایاں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ملاقات کے دوران دونوں صدور نے تجارت بڑھانے، معاشی تعاون میں توسیع، اور باہمی روابط کے فروغ پر خاص طور پر اتفاق کیا، صدر زرداری نے کرغزستان کے بزنس وفد کی پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاسا 1000 توانائی منصوبہ دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جس میں کرغزستان اپنا حصہ مکمل کر چکا ہے جبکہ پاکستان بھی آخری مراحل میں ہے۔
قراقرم ٹرانزٹ معاہدے کے تحت فعال روڈ کاریڈور پر بھی دونوں رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا، صدر زرداری نے زور دیا کہ تجارت، سیاحت اور عوامی روابط بڑھانے کے لیے براہ راست پروازوں میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ سفر میں آسانی ہو اور باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں۔
پاکستان کی جانب سے کرغزستان کو بزنس ویزا لسٹ اور ویزا آن اَرائیول کیٹیگری میں شامل کرنا بھی دوطرفہ تعلقات میں ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔ دونوں ممالک نے توانائی، تجارت، کنیکٹیویٹی، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق ہو کر مستقبل کی شراکت داری کے لیے واضح راستہ قائم کر دیا۔کرغز صدر ژپاروف نے پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کیا اور صدر آصف علی زرداری کو کرغزستان کے دورے کی باضابطہ دعوت دی ۔