کے پی میں گورنر راج کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کا اہم بیان سامنے آگیا

کے پی میں گورنر راج کے حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کا اہم بیان سامنے آگیا

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت ریاست کو سپورٹ کرتی ہے تو ٹھیک ورنہ گورنر راج لگے گا ،صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال مزید بگڑنے کی صورت میں وفاق کے پاس گورنر راج کے نفاذ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرتی ہے تو یہ تمام فریقین کے لیے بہتر ہوگا، لیکن اگر حکومت نے ریاستی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کیں تو وفاق مجبوراً آئینی اختیارات استعمال کرنے پر غور کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے کا مقصد اُن کے علم میں نہیں تاہم ایسے اجتماعات سے صوبے کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید تناؤ پیدا ہوتا ہے۔گورنر کا کہنا تھا کہ جب کسی صوبے میں حالات خراب ہونے لگیں اور حکومتی نظام متاثر ہو تو آئینی طور پر گورنر راج ایک قابلِ عمل آپشن بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :خیبر پختونخوامیں گورنر راج لگانے پر غور

فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی اسلام آباد میں احتجاج نہیں کر پائے گی کیونکہ فیصلے عدالتوں میں ہوتے ہیں، سڑکوں پر نہیں۔انہوں نے کہا کہ بار بار احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے اور نہ ہی ایسی سرگرمیوں سے سیاسی فوائد حاصل ہوتے ہیں گورنر نے سیاسی رہنماؤں کی جیل یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں سیاست کا حصہ رہی ہیں۔

پاکستان کی تقریباً ہر بڑی سیاسی شخصیت کسی نہ کسی موقع پر جیل جا چکی ہے اس لیے اس موضوع کو غیر معمولی بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار گورنر ہاؤس آنے کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن نہیں۔ ’’انہیں پہلے ریہرسل کرنی ہوگی، پھر اندازہ ہوگا کہ گورنر ہاؤس آنا اتنا آسان نہیں  انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ جماعت گورنر ہاؤس کا تیل بند کرنے کی دھمکیاں دیتی رہی مگر اب صورتحال بدل چکی ہے ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *