ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے رواں اور آئندہ مالی سال کے لیے معاشی اشاریوں میں بہتری کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی 2025 کے لیے شرح نمو کا اندازہ ’2.7 فیصد سے بڑھا کر 3.0 فیصد‘ کر دیا گیا ہے، جو اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ریکارڈ کی گئی ’5.7 فیصد‘ گروتھ نے معاشی رفتار کو واضح طور پر سہارا دیا۔
اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ ’بڑی صنعتوں کی پیداواری سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے‘ اور موجودہ مالی سال میں بھی اس بہتری کے مضبوط تسلسل کی توقع کی جارہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’2025-26 کی معاشی شرح نمو میں مزید بہتری‘ کے امکانات موجود ہیں جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کا ’کاروباری ماحول سازگار‘ قرار پایا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ ’جون 2025 میں آنے والے سیلاب‘ کے باوجود ملکی معیشت نے اپنی رفتار برقرار رکھی، جو معیشت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ میں اضافہ اور صارفین کی کھپت میں بہتری‘ گزشتہ سال کی گروتھ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ساتھ ہی ’انڈسٹری میں ریکوری اور سرمایہ کاری میں اضافہ‘ ترقی کے مسلسل رجحان کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
تاہم اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ بیرونی شعبے میں ’عالمی طلب کی کمزوری اور تجارت کے محاذ پر غیر یقینی صورتحال‘ بدستور چیلنج بنی ہوئی ہے، جس کے اثرات آئندہ مہینوں میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔
بینک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے اصلاحاتی اقدامات، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے لیے پائیدار ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے، تاکہ مثبت اشاریوں کو مستقل بنیادوں پر بہتر کیا جا سکے۔