ایبٹ آباد میں ڈاکٹر وردہ کے ہائی پروفائل قتل کیس میں تفتیش کے دوران ایسے سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں جنہوں نے معاملے کو مزید پیچیدہ اور سنگین بنا دیا ہے۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزمہ ردا جو مقتولہ کی قریبی سہیلی بھی بتائی جاتی ہے نے مبینہ طور پر ڈاکٹر وردہ کے قتل کا سودا ایک کروڑ میں طے کیا تھا۔
اس انکشاف نے نہ صرف اہلخانہ بلکہ شہریوں کو بھی شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے ایبٹ آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے وہ دونوں گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی ہیں جنہیں ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور بعد ازاں قتل میں استعمال کیا گیا۔
تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈاکٹر وردہ کے قیمتی زیورات بینک میں جمع تھے جن کے بدلے تقریباً 50 لاکھ روپے کا قرض لیا گیا تھا اور ان مالی معاملات کے حوالے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔
اس کے علاوہ پولیس نے ملزمہ ردا جدون اور اس کے خاندان کی پانچ دکانیں بھی سیل کر دی ہیں تاکہ شواہد میں رکاوٹ نہ آئے اور مالی لین دین کی مزید چھان بین کی جا سکےجبکہ گزشتہ روز سامنے آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید افسوسناک بنا دیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی موت دم گھٹنے سے ہوئی جبکہ ان کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں انتہائی بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ قتل کا مقصد تقریباً تین کروڑ روپے مالیت کے سونے پر قبضہ تھا جو ملزمان کے لالچ اور بربریت کا واضح ثبوت ہے۔
ادھر شہر میں عوامی غم و غصہ بڑھتا ہی جا رہا ہے شہریوں نے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث تمام کرداروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور تحقیقات کو مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
مقتولہ کے اہلخانہ اور خصوصاً ان کے دیور نے پولیس پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل سے قبل ملزمان کا رویہ مشکوک تھا، مگر پولیس نے شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
خاندان کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو ڈاکٹر وردہ کی جان بچ سکتی تھی پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور مزید شواہد سامنے آنے کی صورت میں دیگر ملوث افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔