ایبٹ آباد کی مقتولہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی ہے جس میں ان کی موت کی وجہ دم گھٹنا قرار دی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ مزید شواہد کے لیے پوسٹ مارٹم کی تفصیلات فارنزک لیبارٹری بھجوا دی گئی ہیں تاکہ واقعے کے محرکات اور طریقہ واردات کی مکمل سائنسی جانچ ہو سکے۔
واقعے کے بعد وزیر صحت خیبر پختونخوا اور ایم پی اے مشتاق احمد غنی نے ڈاکٹر وردہ کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا، وزیر صحت نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ کے اغواء اور قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کے تحفظ کے لیے جلد نیا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ ایسے واقعات کا سدباب ہو سکے۔اسی مقصد کے تحت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نے آئی ٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی ہے، جو معاملے کی ہر پہلو سے جامع تحقیقات کرے گی۔ایم پی اے مشتاق احمد غنی نے کہا کہ ڈاکٹر وردہ کے خاندان کو انصاف دلانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان کے مطابق جے آئی ٹی اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ اگر کسی پولیس اہلکار یا افسر کا کردار مشکوک ہوا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وردہ بیرونِ ملک جانے کی تیاری کر رہی تھیں اور اپنے پاس موجود 67 تولہ سونے کے حوالے سے فکرمند تھیں۔
اسی دوران ملزمہ رِدا نے ان کا اعتماد حاصل کر کے سونا امانت کے طور پر اپنے پاس رکھوا لیا تھا اور بعد ازاں اسی سونے کو گروی رکھ کر تقریباً 50 لاکھ روپے بھی حاصل کیے۔یاد رہے کہ پولیس نے ڈاکٹر وردہ کے قتل کیس میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مزید تحقیقات تیزی سے جاری ہیں تاکہ مکمل حقائق سامنے آ سکیں۔