سال 2026سے متعلق ہوش اڑانے دینے والی پیشگوئی سامنے آگئی

سال 2026سے متعلق ہوش اڑانے دینے والی پیشگوئی سامنے آگئی

امریکی ماہرِ ریاضی اور سائنسدان ہائنز وون فورسٹر کی چھ دہائی پرانی پیشگوئی ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہی ہے 1960 میں جاری کی گئی اس پیشگوئی میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر دنیا بھر میں آبادی بڑھنے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 13 نومبر 2026 تک زمین شدید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق انسانی آبادی میں تیزی سے اضافے کے باعث زمین کے وسائل کم پڑ سکتے ہیں جس کا نتیجہ بڑے معاشی و سماجی بحرانوں کی صورت میں نکل سکتا ہےفورسٹر نے اس وقت خبردار کیا تھا کہ آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو خوراک، پانی، زمین، توانائی اور دیگر بنیادی وسائل کی کمی ایک عالمی خطرہ بن سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :نابینا بابا وانگا کی 2026 سے متعلق خطرناک پیشگوئیاں سامنے آگئیں

ان کا مؤقف تھا کہ انسان اگر آبادی کے دباؤ میں کمی نہ لا سکا تو وہ جنگوں، تباہ کن ہتھیاروں یا داخلی خلفشار کے باعث خود اپنی بقا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر مضبوط آبادیاتی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا تھا ان کے مطابق سخت اصول مثلاً زیادہ بچوں والے خاندانوں پر اضافی ٹیکس، منصوبہ بندی کے پروگرام لازمی کرنا یا وسائل کے حساب سے آبادی کی حد مقرر کرنا دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان ہمیشہ سے دنیا کے خاتمے سے متعلق پیشگوئیوں میں دلچسپی لیتا آیا ہے تاریخ میں کئی بار مخصوص سالوں یا تاریخوں کو زمین کی تباہی سے جوڑا گیا، مگر وہ تمام دعوے وقت گزرنے کے ساتھ غلط ثابت ہوئے۔

اسی وجہ سے فورسٹر کی پیشگوئی کو بھی زیادہ تر ایک سائنسی انتباہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے نہ کہ حتمی سچائی کے طور پر اگرچہ ان کی بتائی گئی تاریخ قریب آچکی ہے، لیکن ماحولیات، آبادی اور وسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا فوری طور پر تباہ نہیں ہوگی۔

 یہ بھی پڑھیں :2026 دنیا کیلئے کتنا ہولناک ؟ بابا وانگا کی بڑی پیشگوئیاں سامنے آگئیں

تاہم وہ یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ آبادی کا دباؤ، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، غذائی عدم تحفظ اور وسائل کا بے تحاشا استعمال حقیقی مسائل ہیں جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہےاس پیشگوئی کا دوبارہ زیرِ بحث آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ آج بھی ایک سنگین چیلنج ہے اور مستقبل محفوظ رکھنے کے لیے پائیدار پالیسیاں ناگزیر ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *