اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے کیونکہ ایف بی آر حکام نے بیرون ملک سے لائے جانے والے موبائل فونز پر ٹیکس میں واضح کمی پر غور شروع کردیا ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے پاکستانی جو بیرون ملک سے اپنے ذاتی استعمال کے لیے پرانے یا استعمال شدہ موبائل فون ساتھ لاتے ہیں، اُن پر لاگو ٹیکس میں رعایت دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
اس اقدام کا مقصد نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے بلکہ موبائل فون کی درآمدی پالیسی کو بھی حقیقت پسندانہ بنانا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت استعمال شدہ اور کم ویلیو والے موبائل فونز کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، تاکہ عام شہریوں کو کم قیمت میں موبائل فون دستیاب ہوسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کی جارہی ہے جو مارچ تک مکمل کرلی جائے گی رپورٹ کی روشنی میں نئی ٹیکس پالیسی مرتب کرنے کے امکانات روشن ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے دلچسپ اعدادوشمار پیش کیے اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 94 فیصد موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے جارہے ہیں، جبکہ صرف 6 فیصد موبائل فون بیرون ملک سے امپورٹ کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی طور پر تیار شدہ موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح تقریباً 5 سے 6 فیصد تک ہے، جو کہ عالمی معیار کے مقابلے میں خاصی کم ہے اور مقامی موبائل انڈسٹری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ممبر کسٹمز شکیل شاہ نے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ سال موبائل فون کی خریداری سے قومی خزانے کو 82 ارب روپے ٹیکس کی صورت میں آمدن ہوئی، جبکہ درآمدی موبائل فونز سے 18 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔
یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موبائل فون مارکیٹ ملکی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔اگر حکومت ٹیکس میں کمی کا حتمی فیصلہ کرتی ہے تو اس سے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو ریلیف ملے گا بلکہ موبائل مارکیٹ میں بھی مقابلہ بڑھے گا، جبکہ عام صارفین کو بھی سستا فون ملنے کا امکان پیدا ہوگا۔