پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں ایک سیاسی جماعت سیاسی دجال کا کام کررہی ہے ،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایف پی سی سی آئی اے کے نمائندوں سے ملاقات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا جبکہ ڈیرہ غازی خان میں پارٹی کی جیتی ہوئی نشست کو شکست میں تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت نہایت مشکل دور سے گزر رہا ہے،بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی پوری دنیا نے دیکھا کہ بھارت کے چھ طیارے گرائے گئے ۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نےکہا کہ دشمن ملک ابھی بھی پاکستان کے خلاف مختلف سازشوں میں مصروف ہیں ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی کوشش کر رہا ہے جبکہ افغانستان کی جانب سے بھی خطرات موجود ہیں۔
دہشت گرد سرحد پار کر کے فورسز کے جوانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر افغانستان میں پناہ لے لیتے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے بہادر جوان دونوں جانب سے دہشت گردی کا ڈٹ کرمقابلہ کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنرراج کامطالبہ میرا یا پارٹی کا نہیں لیکن پی ٹی آئی کو اپنا رویہ بہتر کرنا ہوگا،کے پی حکومت اگر ہمیں مجبور کرے گی اپنی فوج کو دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے واپس بھیجے گی تو کیا ہوگا،پھر گورنر راج مجبوری بن جائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے جبکہ کچھ سیاسی قوتیں مسلسل پاک فوج کی قیادت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جب کہ ملک اس وقت سنگین حالات سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی جماعتیں سیاسی میدان میں رہ کر سیاست کریں نہ کہ اداروں کو نشانہ بنائیں، انہوں نے کہا کہ ایک ایک سیاسی جماعت آج ملک میں ’سیاسی دجال‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔
اُن کے مطابق جمہوری روایت یہ ہے کہ اپوزیشن کو بھی کام کرنے کے لیے جگہ ملے، لیکن موجودہ حکومت کے اتحادی خود بھی سیاسی اسپیس مانگ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ الیکشن کمیشن پر نہ اپوزیشن کا اعتماد ہے اور نہ ہی حکومتی اتحادیوں کا وزیراعلیٰ پنجاب اگر سندھ میں آ کر الیکشن لڑیں تو مجھے خوشی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سیاسی جماعتوں پر پابندی کے حق میں نہیں ۔