پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دو روزہ قومی کانفرنس کے سلسلے میں پیپلز پارٹی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ رابطہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم کے ذریعے کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی کو اس دو روزہ قومی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی جائے گی، جبکہ مسلم لیگ ن کو کانفرنس میں شریک ہونے کی دعوت نہیں دی جا رہی۔ اپوزیشن اتحاد کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کا مقصد سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ تلاش کرنا اور موجودہ سیاسی ماحول میں بات چیت کو فروغ دینا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کو مذاکرات کے سلسلے میں محمود اچکزئی سمیت سیاسی رفقاء کی بانی سے ملاقات بھی کرانا ہوگی، تاکہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے میں رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت فوجی انخلاء کی کوشش کرتی ہے یا دہشتگردوں کی سہولت کار بنتی ہے تو گورنر راج ایک مجبوری بن جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وضاحت کی کہ کے پی میں گورنر راج لگانا نہ ان کا مطالبہ ہے اور نہ ہی پیپلزپارٹی کا، اور وہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے بھی حق میں نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعت کو اپنا رویہ ہر صورت بہتر کرنا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کے پی میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی گئی تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کی کوئی سیاسی جماعت دہشتگردوں کی سہولت کار بنی تو گورنر راج لگانا ناگزیر ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اگر فوجی انخلاء کی کوشش کرے گی تو بھی گورنر راج مجبوری بن جائے گا، کیونکہ صوبے میں جنگی حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ امن و استحکام کے لیے صوبائی حکومت کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا، ورنہ وفاقی سطح پر سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔