’اڑنے والی کار‘ ماضی میں دیکھا خواب حقیقت بن گئی، امریکی کمپنی کا بڑا اعلان

’اڑنے والی کار‘ ماضی میں دیکھا خواب حقیقت بن گئی، امریکی کمپنی کا بڑا اعلان

امریکی کمپنی الیف ایرو ناٹکس نے ماضی میں دیکھا گیا خواب آج پورا کر دیا، سائنس فکشن کو حقیقت میں بدلتے ہوئے دنیا کی پہلی اڑنے والی کار کی باقاعدہ پروڈکشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مستقبل میں فضائی سفر کا ایک نیا باب کھلنے جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق الیف ماڈل اے الٹرا لائٹ نامی یہ جدید اڑنے والی گاڑی 2026 کے آغاز میں محدود تعداد میں صارفین کو دستیاب ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:طیارہ حادثہ کی تحقیاتی رپورٹ سے ثابت ہوگیا بھارتی پائلٹس محفوظ فضائی سفر کی صلاحیت نہیں رکھتے،میجر جنرل (ر) زاہد محمود

الیف ایرو ناٹکس کے چیف ایگزیکٹو جم ڈوخوفنی نے کہا ہے کہ یہ اعلان کرتے ہوئے انہیں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا کی پہلی فلائنگ کار کی باقاعدہ تیاری کا عمل شروع ہو چکا ہے، جس کی تکمیل میں چند ماہ لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کے شہری ٹرانسپورٹ سسٹم کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ فلائنگ کار مکمل طور پر الیکٹرک ہوگی اور اس کا ڈیزائن ہالی ووڈ کی مشہور فلم بیک ٹو دی فیوچر میں دکھائی جانے والی اڑنے والی گاڑی سے مشابہ ہے۔ یہ گاڑی سڑک پر 200 میل جبکہ فضا میں 110 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو اسے روزمرہ استعمال کے لیے ایک منفرد انتخاب بناتی ہے۔

الیف ایرو ناٹکس کا کہنا ہے کہ گاڑی کا کیبن خصوصی انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ پرواز کے دوران ہوا میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس کا اندرونی نظام ہیلی کاپٹر کی طرز پر عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس میں روایتی ونگز شامل نہیں بلکہ یہ ڈرون کی طرح متعدد پروپیلرز کے ذریعے فضا میں اڑان بھرتی ہے۔

مزید پڑھیں:ملک کے چاروں صوبائی دارلحکومتوں میں فضائی آلودگی سے متعلق تشویشناک اعدادوشمار

یہ فلائنگ کار ایک وقت میں صرف ایک مسافر کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ 90 کلوگرام وزن تک کا فرد سفر کر سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس جدید گاڑی کی ابتدائی قیمت 3 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، جو فی الحال محدود خریداروں کے لیے دستیاب ہوگی۔

قابلِ ذکر ہے کہ الیف ایرو ناٹکس کے پہلے پروٹوٹائپ کی کامیاب آزمائش فروری 2025 میں کی جا چکی ہے، جس کے بعد اس منصوبے کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں شہری ٹرانسپورٹ کے تصورات یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *