پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند،موٹرویزمختلف مقامات سے بند

پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند،موٹرویزمختلف مقامات سے بند

موٹروے پولیس سنٹرل ریجن کے ترجمان سید عمران احمد نے بتایا ہے کہ شدید دھند کے باعث ملک کے مختلف موٹرویز اور قومی شاہراہ کے اہم حصوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ترجمان کے مطابق موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک دھند کی شدت کے باعث بند کر دی گئی ہے، جبکہ موٹروے ایم تھری لاہور سے سمندری تک بھی دھند کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔

اسی طرح لاہور سیالکوٹ موٹروے ایم الیون کو بھی شدید دھند کے باعث عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے،ترجمان موٹروے پولیس نے مزید بتایا کہ موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک بھی دھند کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث اس حصے میں بھی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید دھند، پی ڈی ایم اے نے ایڈوائزری الرٹ جاری کر دیا

ان بندشوں کا بنیادی مقصد مسافروں کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ دھند میں حدِ نگاہ انتہائی کم ہو جاتی ہے موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پر بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں سندر، مانگا منڈی، پھول نگر اور پتوکی کے علاقوں میں شدید دھند چھائی ہوئی ہے۔

ان مقامات پر حدِ نگاہ بعض جگہوں پر صفر جبکہ بعض حصوں میں صرف 100 میٹر تک محدود ہو چکی ہے جو ڈرائیونگ کے لیے انتہائی خطرناک ہےترجمان نے خبردار کیا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی اور تیز رفتاری جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

سید عمران احمد نے روڈ یوزرز کو ہدایت کی کہ وہ لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حتی الامکان دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں ان کا کہنا تھا کہ دھند کے دوران صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کے اوقات نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ڈرائیور حضرات کو فوگ لائٹس کے استعمال، کم رفتار رکھنے اور آگے چلنے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :شدید دھند؛ موٹرویز کو مختلف مقامات سے بند کر دیا گیا

موٹروے پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سفر سے قبل راستوں کی صورتحال سے آگاہی حاصل کریں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا مدد کے لیے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں،موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *