بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے مودی حکومت اور اڈانی گروپ کے درمیان مبینہ کرپشن کے ایک بڑے منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے اسے بھارت کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ قرار دے دیا ہے۔
راہول گاندھی کے مطابق بھارتی جزیرہ نکوبار پر اڈانی گروپ کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے 160 مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض جنگلاتی رقبے کو بے دردی سے کاٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ نکوبار جزیرے پر موجود قیمتی لکڑی، جس کی مالیت لاکھوں کروڑوں میں ہے، اسے سرعام لوٹا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ سرکاری سرپرستی میں ہو رہا ہے۔
81 ہزار کروڑ کا متنازع منصوبہ
بھارتی جریدے ’اسکرول ان‘ کی رپورٹ کے مطابق، نکوبار پروجیکٹ کی کل لاگت 81 ہزار کروڑ روپے ہے، جس میں ایک نیا ٹاؤن شپ، پاور پلانٹ اور دیگر بڑے تعمیراتی منصوبے شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کا نام نہاد معاشی ماڈل صرف چند من پسند اشخاص (کرونی کیپٹلزم) تک محدود ہے، جبکہ بھارتی عوام کا استحصال جاری ہے۔ اڈانی گروپ کو عوامی وسائل لٹانا دراصل مودی حکومت میں کرپشن کو سرکاری سطح پر جائز بنانے کی ایک کوشش ہے۔
نکوبار پروجیکٹ اور ماحولیاتی بحران
گریٹ نکوبار جزیرے پر جاری یہ ترقیاتی منصوبہ طویل عرصے سے تنازعات کا شکار ہے، یہ جزیرہ اپنی حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) کے لیے مشہور ہے۔ 160 مربع کلومیٹر جنگلات کے خاتمے سے نایاب جانوروں اور پودوں کی نسل ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
اس جزیرے پر قدیم قبائل آباد ہیں جن کی زندگی ان جنگلات سے جڑی ہے۔ منصوبے کے نام پر ان کی بے دخلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔
نریندر مودی کے دورِ حکومت میں اڈانی گروپ کے اثاثوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن کے نشانے پر رہا ہے، جس میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور اب جزائر کے ٹھیکے شامل ہیں۔
کرپشن کا نیا ماڈل اور عوامی ردِعمل
راہول گاندھی کے انکشافات اور ماہرین کی آرا کی روشنی میں اس صورتحال کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے ریاستی وسائل کو نجی مفادات کے لیے وقف کر دیا ہے۔
81 ہزار کروڑ روپے کے منصوبے میں شفافیت کا فقدان ظاہر کرتا ہے کہ قوانین کو صرف ایک مخصوص کاروباری گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے تبدیل کیا گیا۔
لکڑی کی کٹائی اور زمینوں کی بندر بانٹ کو راہول گاندھی نے ’سب سے بڑا فراڈ‘ اس لیے کہا ہے کیونکہ اس میں ماحولیاتی قیمت بھی شامل ہے جسے کبھی پورا نہیں کیا جا سکے گا۔
یہ انکشافات بھارت میں آنے والے انتخابات اور مودی حکومت کی ساکھ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن اب مودی کے ’بدعنوانی کے خلاف جنگ‘ کے دعوؤں کو اسی ’اڈانی گٹھ جوڑ‘ کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے۔
واضح رہے کہ جب بدعنوانی کو ’ترقیاتی منصوبوں‘ کا لبادہ پہنا دیا جائے تو وہ زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔ نکوبار پروجیکٹ اسی پالیسی کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔