ماہرین کے مطابق رواں سال کے دوران چاندی کی مجموعی قیمت میں 158 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور جون کے اختتام کے بعد اس کی قیمت تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔
اس اضافہ کی بنیادی وجوہات میں عالمی سطح پر سرمایہ کاری میں تبدیلی، اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی مانگ، الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے دھات کی ضرورت اور مہنگائی سے بچاؤ کے لیے سرمایہ کاری کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمت سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کر رہی ہے، جبکہ عالمی مارکیٹ میں اقتصادی غیر یقینی صورتحال اور صنعتی طلب میں اضافہ اس کی قیمت کو مزید بلند کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
چاندی کے بڑھتے نرخ نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی پیدا کر رہے ہیں بلکہ پاکستان میں اس کے استعمال کے شعبوں میں بھی اثر ڈال رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں چاندی کی قیمت مزید بلند ہو سکتی ہے، جس سے عالمی اور ملکی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔