بھارتی ریاست اڑیسہ میں آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب میں بالی وڈ کے مقبول گانے ’’نمبوڑا نمبوڑا‘‘کے بول شامل کیے جانے کے بعد تعلیمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آٹھویں جماعت کی آرٹ ایجوکیشن کی نصابی کتاب ’کیرتی‘ میں فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے مشہور گانے’’نمبوڑا نمبوڑا‘ کے بول راجستھانی لوک گیت کے طور پر شائع کیے گئے۔ یہ گانا 1999 میں ریلیز ہونے والی فلم میں ایشوریہ رائے اور سلمان خان پر فلمایا گیا تھا۔
کتاب کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کے تعلیمی ادارے اصل لوک ادب اور ثقافتی ورثے میں فرق کرنے سے بھی قاصر ہو گئے ہیں؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ نصابی کتب میں اس نوعیت کی غلطی تعلیمی نظام کی نگرانی اور جانچ کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل کے بعد اڑیسہ حکومت بھی حرکت میں آگئی۔ وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی اور وزیر تعلیم نتیانند گونڈ نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ریاستی کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگکے متعدد سینئر افسران کو معطل کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چھ اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے، جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ آئندہ نصابی کتب کی تیاری اور اشاعت سے قبل جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک کوالٹی اشیورنس سیل قائم کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ اگر نصابی کتب کی تیاری اور منظوری کے مراحل میں بنیادی حقائق کی بھی درست جانچ نہ ہو سکے تو تعلیمی معیار پر عوام کا اعتماد کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔