چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے فیلڈ مارشل کا نام سنتے ہی بھارتی وزیراعظم مودی چھپ جاتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے کیونکہ پاکستان کی عسکری اور عوامی طاقت ناقابلِ تردید حقیقت بن چکی ہے۔
گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 سال گزرنے کے باوجود شہید بی بی کے قاتلوں اور دہشتگردوں کے لیے سب سے بڑا جواب آج بھی پارٹی کے نظریاتی کارکن ہیں، جن کی محبت اور وابستگی پر وہ شکرگزار ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کارکنان ہی پیپلز پارٹی کی اصل طاقت ہیں افواجِ پاکستان، پاک فضائیہ، پاک بحریہ اور پوری قوم نے مل کر بھارت کو جنگ میں شکست دی اور یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان اور اس کے عوام کی جیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فتح کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ اور وقار میں اضافہ ہوا،انہوں نے کہا کہ گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان ایٹمی قوت بنا، محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں ملک کو میزائل ٹیکنالوجی ملی، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے چین سے جدید طیارے حاصل کیے جن کی بدولت دشمن کے جہاز مار گرائے گئے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو اندرونی، معاشی اور دہشتگردی جیسے چیلنجز درپیش ہیں ساتھ ہی سیاسی بحران بھی موجود ہے، جس سے نکلنے کے لیے عوامی مسائل کا حل ناگزیر ہے]انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم منظور کی، جس کے تحت آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا، جو شہید بے نظیر بھٹو کے وعدے کی تکمیل اور پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق پیپلز پارٹی ایک وفاق پرست جماعت ہے وفاق اور صوبوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے اور صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے مزید ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں ایف بی آر سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کر کے معاشی بحران کم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حیسکو اور سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ وفاق کو صوبوں کو منتقل کرنا چاہیے،پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر معاشی مشکلات کے حل کے لیے کام کرے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگرچہ حکومت معیشت میں بہتری کے دعوے کر رہی ہے، مگر عوام ابھی تک اس بہتری کو محسوس نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی اور معاشی بحران ساتھ ساتھ چلتے ہیں، اس لیے مفاہمت، برداشت اور سیاسی انتہاپسندی سے دوری ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاست نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، بے نظیر بھٹو پر مظالم ڈھائے گئے، مگر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوری راستہ اپنایا۔