وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی پر حکومت پنجاب کو خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی پر حکومت پنجاب کو خط

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دورۂ پنجاب کے دوران پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی پر حکومت پنجاب کو باقاعدہ خط لکھ دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے ساتھ کیے گئے غیر مناسب رویے، غیر ضروری سیکیورٹی اقدامات اور عوامی مقامات کی بندش پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

خط میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا ہے کہ پنجاب کے دورے کے موقع پر اختیار کیے گئے انتظامی اور سیکیورٹی اقدامات نہ صرف غیر ضروری تھے بلکہ ان کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

سہیل آفریدی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ دورۂ پنجاب کے دوران متعدد عوامی مقامات کو بند کر دیا گیا، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مقامات کی بندش کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، لوگوں کو اپنے معمولات انجام دینے میں مشکلات پیش آئیں اور مجموعی طور پر عوام کو غیر ضروری اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ایسے اقدامات کا کوئی جواز نہیں تھا اور یہ سیکیورٹی کے نام پر حد سے تجاوز کے مترادف تھے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب میں کیے گئے سیکیورٹی انتظامات غیر ضروری اور حد سے زیادہ تھے۔ سہیل آفریدی کے مطابق سیکیورٹی کے نام پر اختیار کیے گئے سخت اقدامات نہ صرف غیر متوازن تھے بلکہ ان کا مقصد سمجھ سے بالاتر تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اس کی آڑ میں عوام کو مشکلات میں ڈالنا اور منتخب نمائندوں کے ساتھ غیر مناسب سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنے خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پنجاب کے دورے کے دوران ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ ایسا سلوک دراصل عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ عوام نے انہیں اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی سطح پر غیر مناسب یا توہین آمیز رویہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *