وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔
ان فیصلوں کا مقصد پولیس فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ اور اہلکاروں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہ فیصلے نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیے گئے، جس کی صدارت خود وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پیز) کو ہر سال رہائشی سہولت کی فراہمی کے لیے آسان اور کم اقساط پر پلاٹس دیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان افسران کو اپنی رہائش کے لیے زمین کے حصول میں سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مالی دباؤ کے بغیر اپنے مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔
مزید برآں اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان بھر سے ہر سال 10 پولیس انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو اسکالرشپ کے تحت بیرونِ ملک تربیتی کورسز کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس اقدام سے پولیس اہلکاروں کو جدید پیشہ ورانہ مہارتیں سیکھنے اور بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملے گا، جس کا فائدہ مجموعی طور پر پولیسنگ کے نظام کو ہوگا۔
اجلاس میں پولیس کانسٹیبلز کے بچوں کی تعلیم سے متعلق بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔ اس کے تحت 15 کانسٹیبلز کے ایک ایک بچے کو پاکستان کی بہترین جامعات میں داخلے اور تعلیمی اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن اس مالی معاونت کی ذمہ داری اٹھائے گی تاکہ پولیس اہلکار اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بے فکر ہو سکیں۔
اسی طرح ہر سال ایس پی اور ایس ایس پی رینک کے 5 افسران کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ پر بیرونِ ملک بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس سے سینئر افسران کی تعلیمی اور انتظامی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ نیشنل پولیس فاؤنڈیشن کو پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک متحرک، فعال اور مؤثر ادارہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے فاؤنڈیشن کو خسارے سے نکال کر سرپلس میں لانے پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ مزید اقدامات کے ذریعے پولیس اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔