ملازمت کے لیے بیرون ملک جانے والے خبردار،بڑی شرط عائد کردی گئی

ملازمت کے لیے بیرون ملک جانے والے خبردار،بڑی شرط عائد کردی گئی

پاکستان سے ہر سال ہزاروں تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک کا رخ کرتے ہیں، ان افراد کے لیے ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت نئے سال 2026 کے آغاز سے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جانے والوں پر ایک بڑی شرط عائد کی جا رہی ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے اس حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے،اعلامیے کے مطابق یورپی ممالک کے لیے بدھ یکم جنوری 2026 سے جبکہ خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت شامل ہیں کے لیے یکم فروری 2026 سے سافٹ اسکلز سرٹیفکیشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

اس فیصلے کا مقصد پاکستانی افرادی قوت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق بنانا اور بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کی کارکردگی، رویے اور مواصلاتی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔نئے ضابطے کے تحت وہ تمام افراد جو اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جائیں گے ، اس کے ساتھ ساتھ وہ پاکستانی شہری جو براہِ راست کسی غیر ملکی ادارے یا کمپنی سے ملازمت حاصل کریں گے، ان سب کے لیے لازم ہوگا کہ وہ پروٹیکٹوریٹ آف امیگرنٹس میں رجسٹریشن سے قبل سافٹ اسکلز سرٹیفکیشن مکمل کریں۔

یہ بھی پڑھیں :بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے خوشخبری

اس شرط کے بغیر رجسٹریشن کا عمل مکمل نہیں کیا جا سکے گا۔حکام کے مطابق سافٹ اسکلز سرٹیفکیشن میں کام کی جگہ پر اخلاقیات، ٹیم ورک، وقت کی پابندی، مؤثر گفتگو، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور مختلف ثقافتوں کے ساتھ ہم آہنگی جیسے اہم پہلو شامل ہوں گے۔

ان مہارتوں کی بدولت پاکستانی کارکن بیرونِ ملک نہ صرف بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے بلکہ پاکستان کی مجموعی ساکھ میں بھی بہتری آئے گی۔سافٹ اسکلز سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کو او آئی سی کے منظور شدہ پلیٹ فارم ایپ یا حکومت کی جانب سے نامزد کردہ دیگر متعلقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آن لائن نظام متعارف کرانے سے شفافیت بڑھے گی اور امیدواروں کے لیے یہ عمل آسان ہو جائے گا۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام اگرچہ ابتدا میں کچھ افراد کے لیے چیلنج بن سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں یہ فیصلہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور عالمی لیبر مارکیٹ میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔

editor

Related Articles